رسائی کے لنکس

ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف مزید اقدامات پر غور


ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف مزید اقدامات پر غور

ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف مزید اقدامات پر غور

جوہری امور کی نگرانی کے عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ویانا میں ہورہاہےجس میں ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں نئے اقدامات پر ووٹنگ کی توقع ہے۔

بورڈ ایک قرارداد کے مسودے پر غور کرے گا جس میں تہران کی جوہری سرگرمیوں پر شدید اور بڑھتے ہوئے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا دائرہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی جانب بڑھ رہاہے۔ اور یہ سلسلہ روکنے کے لیے اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے یا ایران کے لیے پابندیوں پر عمل درآمد کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔

توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے بورڈ کی میٹنگ ، ادارے کی جانب سے یہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہورہی ہے کہ ایسے قابل بھروسہ شواہد موجود ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہاہے۔

ایران یہ کہتے ہوئے ان الزامات کی تردید کرچکاہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ توانائی کےعالمی ادارے کے لیے ایران کے سفارت کار علی اصغر سلطانیہ نے ادارے پراپنے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں خفیہ معلومات افشا کرنے کاالزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایران کے سائنس دانوں کی سلامتی اور زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

قرارداد کامسودہ امریکہ اور پانچ عالمی طاقتوں روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے تیار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اس سے قبل ایران کی جانب سے سویلین اور فوجی مقاصد کے لیے اپنی جوہری سرگرمیاں روکنے سے انکار پر چار مرحلوں میں پابندیاں عائد کرچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG