رسائی کے لنکس

پوپ کی جوہری سمجھوتے کی حمایت، آئی اے اِی اے کا خیرمقدم


جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ

اپنے خطاب میں، پوپ نے کہا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والا جوہری سمجھوتا ’سیاسی پرکھ کی صلاحیت اور قانون کی برتری کا ثبوت ہے، جس پر سچائی، صبر اور بردباری کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے‘

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ نے پوپ فرینسس کی جانب سے ایران کے جوہری سمجھوتے کی توثیق کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جو بات اُنھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک عالمی قائدین سے خطاب کے دوران کی۔

آئی اے اِی اے کے سربراہ، یکایو امانو نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق پوپ کے کلمات پر میں بہت ہی خوش ہوں۔ جولائی میں طے پانے والے (جوہری) سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے کام میں کافی پیش رفت کی ہے‘۔

اپنے خطاب میں، پوپ نے کہا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والا جوہری سمجھوتا ’سیاسی پرکھ کی صلاحیت اور قانون کی برتری کا ثبوت ہے، جس پر سچائی، صبر اور بردباری کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے‘۔

پوپ کے بقول، ’میں اپنی اس توقع کا اظہار کرتا ہوں کہ یہ سمجھوتا دیرپہ اور کارگر ثابت ہوگا، اور تمام فریق کے تعاون سے اس کے سودمند نتائج برآمد ہوں گے‘۔

پوپ نے مزید کہا کہ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے لیے کام کیا جائے۔

جوہری سمجھوتے کے تحت، ایران نے یورینئیم کی افزودگی کا درجہ گھٹانے کا عہد کیا ہے، اور ساتھ ہی اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کا کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ ایران نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ جوہری تحقیق اور پیداوار سے متعلق تنصیبات کے مفصل معائنے کی اجازت دینے پر بھی رضامند ہے۔

اس کے عوض، امریکہ اور اُس کے اتحادی تعزیرات میں نرمی کردیں گے، جس کے نتیجےمیں ایران کی معشیت کو شدید نقصان ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG