رسائی کے لنکس

’آئی اے اِی اے‘ کے سربراہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ’ایران کے تعاون سے، میرے خیال میں، اس سال کے اواخر تک ہم ایک رپورٹ جاری کر سکیں گے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ فوجی عزائم سے متعلق تخمینے پر مبنی وضاحت شامل ہوگی‘

جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے (آئی اے اِی اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کے تعاون سے اس سال کے آخر تک تفتیشی رپورٹ پیش کر دی جائے گی آیا ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ، یُوکیا امانو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ’ایران کے تعاون سے، میرے خیال میں، اس سال کے اواخر تک ہم ایک رپورٹ جاری کر سکیں گے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ فوجی عزائم سے متعلق تخمینے پر مبنی وضاحت شامل ہوگی‘۔

امانو نے یہ بات ہفتے کے روز اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جس کے بعد وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جاری مذاکرات میں شرکت کے لیے ویانا روانہ ہوگئے۔

اُن کی جانب سے دیا گیا یہ بیان بات چیت میں پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے، جس کا تعلق ایرانی لیڈروں کے ساتھ گنجلک معاملات پر سمجھوتے کی راہ میں اٹکا ہوا ہے، جس سلسلے میں تقریباً دو برس سے شدت کے ساتھ بحث مباحثہ ہو رہا ہے۔

تمام فریق نے کہا ہے کہ ’سمجھوتا ہو سکتا ہے۔ تاہم، متعدد مشکل نکات حائل ہیں، جس میں سے ایک نکتہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے جوہری پروگرام کے ممکنہ فوجی مضمرات کی تفتیش کا معاملہ بھی شامل ہے۔ دیگر امور میں، ایرانی تنصیبات تک رسائی اور تعزیرات اٹھائے جانے کا نظام الاوقات شامل ہے‘۔

مذاکرات کاروں نے حتمی سمجھوتے کی 30 جون کی حتمی تاریخ ضائع کی، لیکن اس میں سات جولائی تک کی توسیخ کردی گئی ہے، اور وہ وزرائے خارجہ جو اس وقت ویانا میں موجود نہیں ہیں، اتوار تک واپس آجائیں گے، تاکہ مذاکرات میں ایک نئی روح پھونکی جاسکے۔

ہفتے ہی کے روز امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری مقامی وقت کے مطابق 6 بجے شام ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

دریں اثنا، ویانا میں امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری اور تعزیرات کے معاملے سے متعلق ماہرین اس وقت مختلف امور پر تفصیل سے غور و غوض کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے لیے مذاکرات کو حتمی شکل دینا ہے۔

محکمہٴخارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے کہا ہے کہ ماہرین کے گروپ دستیاب وقت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، ایسے میں جب مذاکرات میں شامل زیادہ تر وزرا ویانا میں موجود نہیں ہیں، جو اس عمل سے متعلق مشکل کام کی تفصیل طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ یہ بات واضح نہیں کہ بڑے معاملات باقی ہیں جنھیں حل کیا جانا ہے۔

ہفتے ہی کے روز، امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے نیوکلیئر مذاکرات میں گنجلک نکات پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق سوالوں کے جواب دیے آیا امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں کتنی تیزی سے اٹھائی جائیں گی۔

عہدے دار کے بقول، ’جب بھی ماہرین کی سطح پر ایسے سوال طے ہوتے ہیں، پھر بھی کچھ ایسے معاملات باقی رہتے ہیں جنھیں صرف و صرف وزراٴ ہی فیصل کر سکیں گے‘۔

متوقع طور پر کلیدی وزراٴ اتوار تک ویانا لوٹنا شروع کریں گے، جب کہ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے بتایا ہے کہ وزراتی سطح پر چند اہم سیاسی فیصلے ہوں گے، تب کہیں جاکر حتمی سمجھوتا طے پائے گا۔

کیری، ظریف اور چینی وزیر خارجہ، وانگ یی ویانا ہی میں ہیں۔

سمجھوتے کو آخری شکل دینے کی غرض سے، ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے اعلیٰ حکام نے اپنی ملاقاتیں جاری رکھی ہیں۔

ایک امریکی اہل کار نے بتایا ہے کہ ہفتے ہی کے روز امریکہ کےتوانائی کے وزیر ارنیسٹ مونیز اور ایرانی جوہری توانائی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ملاقات کی ہے۔

XS
SM
MD
LG