رسائی کے لنکس

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سات جولائی تک توسیع


مذاکرات میں توسیع کے باوجود عالمی طاقتوں کے نمائندوں اور ایرانی وفد کے درمیان بات چیت کا سلسلہ تمام دن جاری رہنے کی توقع ہے۔

مذاکرات میں توسیع کے باوجود عالمی طاقتوں کے نمائندوں اور ایرانی وفد کے درمیان بات چیت کا سلسلہ تمام دن جاری رہنے کی توقع ہے۔

ویانا میں جاری مذاکرات میں شریک امریکی وفد کی ترجمان میری ہارف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فریقین نے مذاکرات کو سات جولائی تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے تہران حکومت کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں سات جولائی تک توسیع کردی ہے۔

ویانا میں جاری مذاکرات میں شریک امریکی وفد کی ترجمان میری ہارف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فریقین نے مذاکرات کو سات جولائی تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایران کے جوہری مسئلے پر کسی حتمی اور دیرپا سمجھوتے کے حصول کے لیے مذاکرات کو مزید وقت مل سکے۔

ایران اور 'پی5 + 1' گروپ – جس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین اور جرمنی شامل ہیں - نے رواں سال اپریل میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی سمجھوتے کے لیے 30 جون کی ڈیڈلائن مقرر کر رکھی تھی۔

لیکن رواں ہفتے مذاکرات کا آخری دور شروع ہونے کے بعد سے مغربی ملکوں کے نمائندوں اور سفارت کاروں کی جانب سے تواتر سے ایسے بیانات سامنے آرہے تھے جن میں ڈیڈلائن سے قبل معاہدے پر اتفاقِ رائے کے امکان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا۔

مذاکرات سے منسلک بعض امریکی اہلکاروں نے بھی گزشتہ چند روز کے دوران ایسے بیانات دیے تھے جن میں مذاکرات کی ڈیڈلائن میں مزید چند روز کے اضافے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

مذاکرات میں شرکت کےلیے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری سمیت دیگر ملکوں کے اعلیٰ حکام بھی گزشتہ کئی روز سے ویانا میں موجود ہیں جہاں فریقین ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حتمی معاہدے کے مسودے پر اپنے باقی ماندہ اختلافات دور کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف بھی منگل کو واپس ویانا پہنچ گئے ہیں جو دو روز قبل ایرانی قیادت کے ساتھ مشاورت کے لیے تہران لوٹ گئے تھے۔

جواد ظریف کے ہمراہ جوہری امور پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار علی اکبر صالحی بھی ویانا پہنچے ہیں جو علالت کے باعث مذاکرات کے حالیہ دور میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اپنی علالت کے باوجود علی اکبر صالحی کی مذاکرات میں شرکت کے لیے ویانا آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ان مذاکرات اور اپنے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی معاہدے پر اتفاق کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔

منگل کو ویانا پہنچنے کے فوراً بعد ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ ملاقات کی جس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

لیکن ملاقات کے بعد ہوٹل سے نکلتے ہوئے صحافیوں کے سوال پر جان کیری نے صرف اتنا بتانے پر اکتفا کیا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کے ساتھ "اچھی گفتگو" ہوئی ہے۔

جان کیری نے منگل کو ویانا میں موجود روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ بھی علیحدگی میں ملاقات کی جب کہ 'پی5+1' کے اعلیٰ نمائندوں اور ایرانی وفد کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی تمام دن جاری رہنے کی توقع ہے۔

XS
SM
MD
LG