رسائی کے لنکس

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق:’ابھی کسی قسم کی پیش رفت تک نہیں پہنچے‘، جب کہ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ، ’اہم سوال یہی ہے آیا سب میں اتنا عزم اور ہمت ہے کہ وہ معاملے کو توڑ تک پہنچا سکیں‘

ایران کے جوہری پروگرام پر ویانا میں ایرانی مذاکرات کاروں اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں ملی جلی اطلاعات مل رہی ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ فلب ہیمنڈ نے کہا ہے کہ مذاکرات کار ’ابھی کسی قسم کی پیش رفت تک نہیں پہنچے‘۔

ہیمنڈ نے بتایا کہ ’کام جاری ہے‘۔ اُنھوں نے یہ بات مذاکرات کے مقام سے باہر اخباری نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹراسٹائنمائر نے کہا کہ ’اہم سوال یہی ہے آیا سب میں اتنا عزم اور ہمت ہے کہ وہ معاملے کو توڑ تک پہنچا سکیں‘۔

بعد میں، آج ہی کے دِن، فرانسسی وزیر خارجہ، لورے فیبس مذاکرات کے مقام پر پہنچے۔ بقول اُن کے، ’کچھ نکات پر پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم، دوسروں پر نہیں ہو پائی‘۔

اس سے قبل جمعرات کو، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر تعیش، پیلس کوبوگ ہوٹل کی بالکنی میں کھڑے تھے، جہاں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وہ زور سے مسکرائے اور نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیا۔ جب اُن سے مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا، تو اُن کا کہنا تھا: ’مجھے پُرامید رہنا ہوگا‘۔

تاہم، مذاکرات کے مقام سے باہر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ایران کے معاون وزیر خارجہ، ماجد تخت روانچی نے تعزیرات میں نرمی سے متعلق معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، اُنھوں نے کہا کہ ’ہم اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ سمجھوتے پر عمل درآمد کے پہلے ہی روز تمام معاشی، تجارتی اور مالیاتی تعزیرات اٹھالی جائیں گی‘۔

متعدد ایرانی اہل کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ سمجھوتے کے بدلے فوری طور پر تعزیرات ہٹا لی جائیں گی، جس میں جوہری ہتھیار بنانے کی ایران کی استعداد کو محدود کیا جائے گا۔ ایران کے ساتھ بات چیت میں شریک عالمی طاقتیں یہ تعزیرات مرحلہ وار اٹھانے کے حق میں ہیں۔

بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ مذاکرات کار ’انتہائی محنت سے کام کر رہے ہیں‘ اور اُنھیں ’چند بے انتہا مشکل معاملات‘ درپیش ہیں۔

XS
SM
MD
LG