رسائی کے لنکس

ایران اور عالمی طاقتیں جوہری مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پرامید


ایران، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ

ایران، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ ظریف نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جنیوا میں بات چیت کے دوران فریقین کے درمیان ’’قابل ذکر پیش رفت‘‘ ہوئی، لیکن انھوں نے معاہدے تک رسائی نہ ہونے کا الزام امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی پر مشتمل گروپ میں عدم اتفاق کو قرار دیا۔

دنیا کی چھ بڑی قوتوں اور ایران کے درمیان اس کی یورنیم افژودگی کو محدود کرنے کے لیے کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچنے کی دشنام ترازیوں کے باوجود سفارتکار معاہدے پر متفق ہونے کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کو رات دیر گئے کہا کہ گزشتہ ہفتے جنیوا میں بات چیت کے دوران فریقین کے درمیان ’’قابل ذکر پیش رفت‘‘ ہوئی، لیکن انھوں نے معاہدے تک رسائی نہ ہونے کا الزام امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی پر مشتمل گروپ میں عدم اتفاق کو قرار دیا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ اپنی تجویز پر متحد تھا۔ کیری کے بقول یہ ایران تھا جو معاہدے پر اتفاق نہ کرسکا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین چند مہینوں میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

یہ مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہونے جا رہے ہیں۔

ہیگ کا کہنا تھا کہ اگر جوہری پروگرام سے متعلق ابتدائی معاہدہ ہوسکا تو عالمی طاقتیں ایران پر سے چند پابندیوں کو ہٹا لیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں انضباطی اقدامات مزید سخت ہوسکتے ہیں۔

دریں اثناء جوہری توانائی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے اور ایران نے پیر کو ایک معاہدے پر اتفاق کیا جس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری عنصر سے متعلق تحفظات کو دور کرنا ہے۔

ایران طویل عرصے سے یہ باور کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔
XS
SM
MD
LG