رسائی کے لنکس

بیان میں امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ فریقین کی توجہ اس وقت ڈیڈلائن پر نہیں بلکہ ایک "معیاری معاہدے" پر اتفاقِ رائے پہ مرکوز ہے۔

امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر کسی حتمی معاہدے پہ اتفاق کے لیے جاری مذاکرات میں جمعے تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ویانا میں جاری مذاکرات میں شریک امریکی وفد کی ترجمان میری ہارف نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے جوہری معاہدے کے ہر پہلو پر خاصی پیش رفت کی ہے لیکن معاملے کی انتہائی تیکنیکی نوعیت اور مذاکرات میں شریک تمام ملکوں کے لیے اس کی اہمیت کے پیشِ نظر بات چیت انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

بیان میں امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ فریقین کی توجہ اس وقت ڈیڈلائن پر نہیں بلکہ ایک معیاری معاہدہ پر اتفاقِ رائے پہ مرکوز ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین کو احساس ہے کہ مشکل فیصلے وقت گزرنے کے ساتھ آسان نہیں ہوجاتے لیکن پھر بھی فریقین ایک بہتر معاہدے پر اتفاقِ رائے کی امید پر مذاکرات جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام پر جاری سات ملکی مذاکرات میں یہ مسلسل دوسری توسیع ہے۔ رواں سال اپریل میں طے پانے والے عبوری سمجھوتے کے تحت فریقین نے ایرانی جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے 30 جون کی تاریخ مقرر کی تھی۔

لیکن ایران اور مذاکرات میں شریک چھ عالمی طاقتوں – امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی – کے درمیان بعض معاملات پر موجود اختلافات آخری وقت تک دور نہ ہونے کے باعث حتمی معاہدے کی ڈیڈلائن میں 7 جولائی تک توسیع کردی گئی تھی۔

امریکہ، ایران اور مذاکرات میں شریک دیگر ملکوں کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام مسلسل کئی روز سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں موجود ہیں جہاں فریقین معاہدے کے اختلافی پہلوؤں پر اتفاقِ رائے کے لیے مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔

مذاکرات میں جمعے تک توسیع کے باضابطہ اعلان سے قبل یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

منگل کی صبح ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین کی عہدیدار نے کہا تھا کہ فریقین ڈیڈلائن کے باوجود معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے درکار وقت تک بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG