رسائی کے لنکس

جوہری کانفرنس میں امریکہ پر ایران کی برہمی


ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے بارے میں ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے امریکہ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

مسٹر احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ نے جوہری ہتھیار بنا کر ایسے ہی ہتھیار بنانے کے لیے دوسرے ملکوں کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی ایک دوڑ شروع ہوگئى۔

انہوں نے پیر کے روز اپنی تقریر میں امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ”جھوٹے بہانے “ کے تحت ایران سمیت دوسرے ملکوں کو ا پنے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا کوئى قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ اُنکا ملک جوہری اسلحہ تیار کررہا ہے۔

امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے مندوبین ایرانی لیڈر کی تقریر کے دوران کانفرنس سے واک آؤٹ کرگئے۔

اس سے پہلےاقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسی کانفرنس کا افتتا ح کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ” شُبہات اور اندیشوں “ کو دُور کر نے کی ذمّے داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔

امریکہ اور اُس کے اتحادی ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ خفیہ طور جوہری اسلحہ تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے ۔

مسٹر بان نے کہا کہ وہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی حوصلہ افزائى کرتے ہیں کہ وہ ”تعمیری رویّہ اختیار کریں“ اور جوہری ایندھن کی فراہمی کے لیے وہ تجاویز قبول کرلیں، جو ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی نے پیش کی ہیں۔

مہینہ بھرجاری رہنے والی یہ کانفرنس نیو یارک شہر میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ہو رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG