رسائی کے لنکس

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ترکی میں مذاکرات شروع


ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ترکی میں مذاکرات شروع

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ترکی میں مذاکرات شروع

ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں اور ایرانی نمائندوں کے درمیان پہلے روز کے مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ختم ہوگئے۔

دوپہر کے کھانے کے وقفے سے قبل مذاکرات کاروں کے درمیان دوگھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ خبررساں ادارے رائیٹر کا کہناہے کہ ایران نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اس مسئلے پر کوئی رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی عہدے داروں کا کہناہے کہ مذاکرات کا آغاز خوشگوار ماحول میں ہوا۔

مذاکرات میں شامل ایک ایرانی عہدے دار ابوالفیضی زوروند کا کہناہے کہ جوہری پروگرام پر ملک کاحق مذاکرات میں ایک مسئلے کے طور پر موجود نہیں تھا۔

ترکی کی کوششوں سے ہونے والے ان دو روزہ مذاکرات میں ایران اور ’پی5 پلس 1‘ کے نام سے معروف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین، امریکہ، چین ، روس، برطانیہ اور فرانس، اور جرمنی پر مشتمل گروپ کے نمائندے شریک ہیں۔

تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں استنبول مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ ان مذاکرات میں ایرانی حکام کے ساتھ جوہری ایندھن کے تبادلے کی تجویز پر گفتگو کا خواہاں ہے۔

ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے استنبول مذاکرات کے دوران اپنے جوہری پروگرام کے قانونی اور تیکنیکی پہلووں پر کوئی گفتگو نہیں کی جائے گی۔

جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی میں ایرانی سفیر علی اصغر سلطانیہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اپنے جوہری ری ایکٹرز کےلیے ایندھن کے تبادلے کی تجویز پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہے۔

سلطانیہ نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو اس ضمن میں کسی معاہدے تک پہنچنے کےلیے جلدی کرنا ہوگی کیونکہ اگر تہران نے اپنے جوہری ری ایکٹرز میں خود افزودہ کی گئی یورینیم کا استعمال شروع کردیا تو پھر اسے ایسے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

استنبول مذاکرات میں فریقین کے درمیان جوہری ایندھن کے تبادلے کی جس تجویز پر گفتگو متوقع ہے وہ گزشتہ سال ترکی اور برازیل کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ تجویز کے تحت ایران کی جانب سے یورینیم کسی تیسرے ملک کو فراہم کی جانی تھی جو اسے 20 فی صد افزودہ کرکے دوبارہ تہران کو لوٹاتا جسے بعد ازاں طبی مقاصد کےلیے تہران میں قائم ایک ری ایکٹر میں استعمال کیا جانا تھا۔

مغربی ممالک کوخدشہ ہے کہ ایران یورینیم افزودہ کرکے جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے اور اس خدشے کے تحت ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرنے کےلیے اس پر عالمی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی نے گزشتہ روز استنبول میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کئی بار اس امر کی تصدیق کرچکی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام عالمی اصولوں اور معاہدات کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لیوروو نے نے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی جانب سے یک طرفہ طور پر ایران پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG