رسائی کے لنکس

ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی تیاری

  • الزبتھ ایروٹ

ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی تیاری

ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی تیاری

امریکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرا م کی وجہ سے اس کے خلاف مزید یک طرفہ پابندیاں لگانے کی تیار ی کر رہا ہے۔یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیوں کے چوتھے راؤنڈ کے علاوہ ہوں گی جن کا اعلان گذشتہ مہینے کیا گیا ہے ۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے نیوکلیئر مذاکرات ملتوی کر رہا ہے ۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں مذاکرات صرف اگست کے آخر میں ہی شروع کرے گا۔ یہ رمضان شریف کا زمانہ ہوگا جب روز ے رکھے جاتے ہیں اور کام بہت کم ہوتا ہے ۔ پھر عیدالفطر کی چھٹیاں شروع ہو جائیں گی ۔ اس طرح مذاکرات ستمبر پر جا پڑیں گے۔اگر مذاکرات اُس وقت شروع ہوئے تو ایران کی طرف سے یورینیم کی افژودگی کے مسئلے کو طے کرنے کے لیے مغربی ملکوں کی تجویز کو، جس کی حمایت اقوام متحدہ نے بھی کی تھی، تقریباً ایک سال گذر چکا ہوگا ۔

برٹش امریکن سکیورٹی انفارمیشن کونسل کے ایگزیکٹو پال انگرام کہتے ہیں کہ دونوں فریقوں نے حال ہی میں جو اقدامات کیے ہیں وہ ایک نہ ختم ہونے والے چکر کا حصہ ہیں۔’’میرے خیال میں ایران پر حال ہی میں جو پابندیاں لگائی گئی ہیں ان کی وجہ سے اس وقت اس کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا مشکل ہورہا ہے ۔سفارتی مذاکرات میں وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ ایران اور مغربی ملکوں، دونوں کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ تاثر نہ ملے کہ کسی بھی فریق نے دوسرے کے دباؤ میں آکر کوئی بات مانی ہے ۔‘‘

بین الاقوامی سطح پر اس کوشش کی قیادت امریکہ کر رہا ہے کہ تہران کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ یورینیم کو افژودہ کرنا بندکردے۔ امریکہ اور دوسرے ملکوں کو شبہ ہے اس یورینیم کو بالآخر نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام صرف سویلین مقاصد کے لیے ہے ۔ اسے شبہ ہے کہ گذشتہ سال اس کے سامنے جو تجویز رکھی گئی تھی وہ ایک چال تھی جس کا مقصد اس کے یورینیم کو ضبط کرنا تھا۔

مئی میں جب ایران نے ترکی اور برازیل کی طرف سے پیش کی ہوئی ایسی ہی تجویز کو تسلیم کر لیا تو اس وقت تک اس کا یورینیم کا ذخیرہ دگنا ہو چکاتھا۔ اس طرح وہ حالات بدل چکے تھے جن میں ایران اپنے یورنیم کا بیشتر حصہ دوسروں ملکوں کو بھیج دیتا۔

قاہرہ یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر حسان نافع کہتے ہیں کہ ایران نے بڑی ہوشیاری سے اپنی توجہ بعض ابھرتی ہوئی طاقتوں پر مبذول کر دی ہے ۔’’ایران کا خیال ہے کہ اس نے ترکی اور برازیل کے ساتھ پہلے ہی معاہدہ کر لیا ہے ۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ سمجھوتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے عزائم نیک ہیں اور وہ مسئلے کا پُر امن حل چاہتا ہے ۔میرے خیال میں ایران نے برازیل اور ترکی کے ساتھ جس انتظام پر اتفاقِ رائے کیا ہے اس کے سوا وہ کسی اور حل پر توجہ نہیں دے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کا طرزِ عمل ایسا ہے کہ اس کے خیال میں بین الاقوامی برادری متحد ہو کر کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرے گی۔‘‘

پروفیسر حسان نافع کہتے ہیں کہ ایران کے موجودہ طرزِ عمل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا خیال ہے کہ موجودہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے سفارتکاری سے زیادہ سخت اقدام کا امکان نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں’’میرے خیال میں ایران اس طرح کچھ اور وقت حاصل کر رہا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے خیا ل میں فوجی حملہ خارج از امکان ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ کسی کو ایران پر فوجی حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی۔ اور اگر ایسا ہوا بھی تو پھر علاقائی جنگ چھڑ جائے گی اور امریکہ اور اسرائیل دونوں علاقائی جنگ کے نتائج بھگتنے کو تیار نہیں ہوں گے۔‘‘

اس دلیل کے جواب میں پال انگرام کہتے ہیں کہ ایران اگر اسی طرح حیلوں بہانوں سے کام لیتا رہا تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور دوسرے ملکوں کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کہ ایران نیوکلیئر اسلحہ تیار کر رہا ہے، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور یہ کام اس لیے اور بھی مشکل ہو گیا ہے کیوں کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے اس نے عراق کے بار ے میں بھی اسی قسم کے دعوے کیے تھے ۔

لیکن انگرام کہتے ہیں کہ اگرا یران ایسی ٹیکنالوجی اور ساز و سامان جمع کرنا جاری رکھتا ہے جس کے بارے میں مغربی ملکوں کو تشویش ہے تو پھر یہ تعین کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا کہ کس مرحلے پر فوجی کارروائی کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ایران نے تمام امکانات پر اچھی طرح غور کر لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ فوجی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ مشکل یہ ہے کہ مغربی دنیا کی نظر میں کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔ اور لوگ یقیناً یہ برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں کہ ایران ایسا ملک بن جائے جس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار موجود ہوں۔‘‘

انگرام کہتے ہیں کہ اب جب کہ مغرب کے ملک سفارتی تعطل کا شکار ہیں ایران کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ اسے سوچنا چاہیئے کہ کیا اس طرح کے حیلوں بہانوں سے اسے واقعی مغربی ملکوں پر بالا دستی حاصل ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG