رسائی کے لنکس

ریپبلیکنز کا ایران سے ’مختصر مدتی‘ سمجھوتے کا انتباہ


فائل

فائل

سینیٹ میں پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ اگلا امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے ساتھ کیے جانے والے نیوکلیئر سمجھوتے کو، جو دراصل ایک انتظامی اقدام ہوگا، قلم کی ایک ہی جنبش سے ختم کردے گا

امریکی ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے47 ارکان کے ایک گروپ نے پیر کے روز ایران کو متنبہ کیا کہ مذاکرات سے صدر براک اوباما کے ساتھ طے پانے والا جوہری سمجھوتا، 2017ء کے اوائل میں اُس وقت ختم ہو جائے گا جب صدر یہ عہدہ چھوڑیں گے۔

ایران کو تحریر کردہ ایک خط میں، ریپبلیکن گروپ نے کہا کہ امریکہ اور پانچ عالمی طاقتوں کی جانب سے جس سمجھوتے پر بات چیت ہو رہی ہے، اگر کانگریس اس کی منظوری نہیں دیتا تو ایسے معاہدے کی حیثیت مسٹر اوباما اور ایران کے رہبر اعلیٰ، آیت اللہ خامنہ اِی کے درمیان ’محض ایک انتظامی اقدام کی سی ہوگی‘۔

ریپبلیکن ارکان نے کہا کہ اگلا امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے ساتھ کیے جانے والےنیوکلیئر سمجھوتے کو، جو دراصل ایک انتظامی اقدام ہوگا، قلم کی ایک ہی جنبش سے ختم کردے گا، ’اور مستقبل کے کانگریس کا ایوان کسی بھی وقت اس طرح کے کسی سمجھوتے کی شرائط میں تبدیلی لائے گا‘۔

قانون سازوں نے، جن میں امریکی سینیٹ میں 54 کے اکثریتی ایوان میں پارٹی کے سات کے علاوہ تمام ارکان شامل ہیں، متنبہ کیا کہ امریکی آئین کی رو سے، مسٹر اوباما کو عہدہ چھوڑنے میں اب دو سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے، جب کہ یہ ارکان عشروں تک اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔

اختتام ہفتہ، مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ اگر ایسا سمجھوتا طے نہیں ہوسکتا جس میں ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے دور رکھنے کے لیے بین الاقوامی توثیق پر عمل درآمد ممکن نہ ہو، اُس صورت میں امریکہ ایسا سمجھوتا نہیں ہونے دیگا۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی مجوزہ قانون سازی کو ویٹو کردیں گے، جس میں طے ہونے والے سمجھوتے کے لیے کانگریس کی نظرثانی درکار ہو۔

ایران اس بات پر مصر ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، اور امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے ساتھ امریکہ اور یورپ کی جانب سے لگائی گئی معاشی تعزیرات کو اٹھائے جانے کے بدلے اُن سرگرمیوں کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے، جو وہ جاری رکھ سکتا ہے۔


مذاکرات کاروں کو ایک خودساختہ ڈیڈلائن کا سامنا ہےکہ 31 مارچ تک سمجھوتے کا بنیادی خاکہ مکمل کرنا ہے، جب کہ جون کے آخر تک ایک حتمی سمجھوتا طے کیا جانا ہے۔

لاتعداد امریکی قانون سازوں نے، جِن میں اکثریت ریپبلیکنز کی ہے، مذاکرات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ تعزیرات میں نرمی برتی جائے گی، جب کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا کام جاری رکھے گا۔

ریپبلکن پارٹی کے اکثریت والے ایوان نمائندگان کے اسپیکر، جان بینر نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کو کانگریس سے خطاب کے لیے مدعو کیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ متنازع جوہری معاملے پر ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں’بیکار سمجھوتا‘ طے ہوگا۔ بینر نے مروجہ سفارتی پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے، وائٹ ہاؤس کو بتائے بغیر یہ دعوت نامہ جاری کیا۔

XS
SM
MD
LG