رسائی کے لنکس

جوہری معاملہ: ایرانی وزیرِ خارجہ کامغرب کو الٹی میٹم

  • ایڈورڈ یرانین

مغربی ممالک کو دو تجاویز میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: متقی

ایرانی وزیرِ خارجہ منوچہر متقی کے اِس انتباہ سے پتا چلتا ہے کہ ایران متنازع جوہری پروگرام کےبارے میں اپنے موقف کو سخت کرتا جارہا ہے۔ مغربی ملکوں کویہ خدشہ ہے کہ اِس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایران کے جوہری مقاصد ہیں۔

ایران زور دے کر کہتا ہے کہ اُس کا پروگرام پُرامن مقاصد کےلیےہے جِس سے بجلی کی پیداوارمقصود ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ کے پیغام کو ایران کے ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایران نے مغربی ملکوں کو الٹی میٹم دے دیا ہے۔ اُن کے پاس صرف ایک ماہ ہے اور جنوری کے آخر تک اُنھیں ایران کی تجاویزقبول کرنا ہوں گی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کو دو تجاویز میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ایک تو یہ کہ ایران فرانس یا روس سے براہِ راست یورینیم خرید لے یا پھر ایرانی سرزمین پر ہی یورینیم کا تبادلہ ہو۔ بصورتِ دیگر ایران اپنے با صلاحیت ماہرین کی مدد سے اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کی پیداوار شروع کردے گا۔

امریکہ سمیت مغربی ملکوں نے گذشتہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت ایران پر زور دیا ہےکہ وہ اپنے کم افزودہ یووینیم کی تقریباً ستر فی صد مقدار کو بیرونی ملک بھجوا دے۔

اِس ایندھن کو پھر اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم میں تبدیل کرکے واپس ایران کو بھیجا جائے گا۔ لیکن، ایران نے جوابی تجویز پر زور دیا ہے کہ ا ُس کے یورینیم کے ذخیروں کو چھوٹی چھوٹی مقدار میں باہر بھیجا جائے گا اور پھر ایرانی سرزمین پر ہی اِس کا فوری تبادلہ کیا جائے گا۔

ایران کی یہ تجویز مغربی ملکوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ اِس سے ایران کے پاس اتنی مقدار میں افزودہ یورینیم ہوجائے گا جس سے جوہری ہتھیار تیار کیے جاسکیں۔

تل ابیب میں‘ میپاز سینٹر’ کے تجزیہ کار، میر جاوداں فر کا کہنا تھا کہ متقی داخلی سطح پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایران اب مغربی ملکوں کے ساتھ سمجھوتا طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ مغربی ملک اُس پر پابندیاں لاگو کرنے کی تیاری کر سکتے ہیں۔

مسٹر متقی مغربی ملکوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ ایران پر حکم مسلط نہیں کیا جاسکتا اور مغربی ملک ایران کو الٹی میٹم نہیں دے سکتے۔

ایران میں جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحے نے گذشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ تہران نتانژ تنصیب کی طرح دس نئے پلانٹ لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ بعض جوہری ماہرین نے اِسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے، لیکن اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے نے اِس اعلان پر ایران پر تنقید کی تھی۔

XS
SM
MD
LG