رسائی کے لنکس

ایران جوہری تنازع پر سمجھوتا ممکن، تاہم ’مشکل مراحل باقی‘


ویانا

ویانا

جان کیری نے کہا ہے کہ، ’میں سمجھتا ہوں، یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہم پُرامید ہیں۔ ہمیں بہت سخت کام کرنا ہوگا۔ ہمیں چند انتہائی سخت معاملات درپیش ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ہمیں حتمی کوشش کرنی ہوگی آیا سمجھوتا ممکن ہے یا نہیں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ایران کےجوہری مذاکرات کاروں کو توقع ہے کہ وہ سمجھوتا طےکر سکیں گے۔ تاہم، اِس کے لیے ضرورت اِس بات کی ہوگی کہ ’انتہائی سخت معاملات‘ پر بات چیت کے مراحل سے گزرا جائے۔

کیری نے یہ بات ہفتے کے روز ویانا میں کہی، ایسے وقت جب اُنھوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ بند کمرے میں مذاکرات کے دور کے سلسلے کا آغاز کیا۔

کیری کے بقول، ’میں سمجھتا ہوں، یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہم پُرامید ہیں۔ ہمیں بہت سخت کام کرنا ہوگا۔ ہمیں چند انتہائی سخت معاملات درپیش ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ہمیں حتمی کوشش کرنی ہوگی، آیا سمجھوتا ممکن ہے یا نہیں‘۔

ظریف نے کہا کہ پیش رفت کے حصول اور آگے بڑھنے کی غرض سے دونوں فریق کو انتہائی سخت کام کرنا ہوگا۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں اس بات سے متفق ہوں۔۔۔اس حقیقت پر ہمیں واقعی سخت کام کرنا ہوگا، تاکہ ہم پیش رفت حاصل کرسکیں اور آگے بڑھ سکیں۔ ہم پُرعزم ہیں کہ ہم وہ سب کچھ کریں جو ہم کر سکتے ہیں، تاکہ یہ اہم سنگ میل حاصل کیا جاسکے۔ تاہم، اس بات کا دارومدار کئی چیزوں پر ہے اور ہم اِن باتوں پر نظر ڈالیں گے‘۔

ہفتے ہی کو، اس سے قبل، ظریف نے کہا کہ ’اگر دوسرا فریق مثبت اقدام کرتا ہے اور بے تحاشہ مطالبات پیش نہیں کرتا، تو ہم یقینی طور پر کسی سمجھوتے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے بھلے کی بات ہوگی‘۔

فرانسسی وزیر خارجہ لورے فیبس نے کہا ہے کہ تین شرائط تھے جن پر ابھی بات چیت باقی ہے، تاکہ ایک کامیاب سمجھوتے کا حصول یقینی بنایا جائے۔

اُنھوں نے یہ بات مذاکرات میں شرکت کے لیے پہنچنے پر ہفتے کو اخباری نمائندوں کو بتائی۔

امریکی محکمہٴخارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار کا کہنا ہے کہ کیری ہفتے کی شام فیبس سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

ایسے میں جب خودساختہ 30 جون کی حتمی تاریخ سر پہ منڈلا رہی ہے، چند مشکل ترین معاملات پر بات ہونا باقی ہے۔

’العالم نیوز نیٹ ورک‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار، معاون وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایک چیلنج تو یہ ہے کہ جب دو اپریل کو فریم ورک سمجھوتا طے پایا تھا، اُس کے بعد، بات چیت میں شریک کچھ ملکوں کا نقطہ نظر تبدیل ہوچکا ہے۔

اُنھوں نے اُن ملکوں کا نام نہیں لیا۔

اپریل میں، ایران اور امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی (جنھیں پی فائیو پلس ون گروپ کا نام دیا جاتا ہے) ایک معاہدے پر پہنچے تھے جس کے لیے خیال تھا کہ یہ حتمی سمجھوتے کی بنیاد بنے گا جس سے ایران کو تعزیرات میں نرمی دی جائے گی، جب کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی ایران کی صلاحیت کو محدود کیا جائے گا۔

تاہم، چوٹی کے ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ نااتفاقی کا معاملہ حل طلب ہے۔

تاہم، یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ مذاکرات کار خودساختہ حتمی تاریخ کی پابندی نہیں کر پائیں گے۔

XS
SM
MD
LG