رسائی کے لنکس

”ایران سے گیس درآمد کا منصوبہ پاک امریکہ تعاون کو متاثر نہیں کرے گا“

  • حسن سید

پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط جمعے کو اسلام آباد میں ہوئے

پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط جمعے کو اسلام آباد میں ہوئے

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم نوید قمر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں جاری تعاون کو متاثر نہیں کرے گا ۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ امریکہ کی طرف سے اس منصوبے کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے کیونکہ ان کے مطابق امریکہ اور دوسرے ممالک پاکستان کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ توانائی کا بحران ملکی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

امریکہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے تناظر میں اس گیس پائپ لائن کی مخالفت کرتا آیا ہے۔

امریکہ اپنے قریبی اتحادی پاکستان کو توانائی کی سنگین قلت سے نجات دلانے کے لیے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے تحت اگرچہ مختلف منصوبوں پر کام کررہا ہے لیکن واشنگٹن نے تاحال اسے پرامن جوہری تعاون فراہم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا جو وہ بھارت کو فراہم کررہا ہے اور اسلام آباد بھی اسی طرز کے تعاون کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اس ہفتے پاکستان اور ایران کے حکام نے تقریباً سات ارب ڈالر لاگت کے منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کرنے کے لیے ریاستی ضمانت کے آخری معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت پاکستان ایران سے روزانہ 75کروڑ کیوبک فٹ قدرتی گیس درآمد کرے گا جسے بعد میں ایک ارب یومیہ تک بڑھا دیا جائے گا۔

درآمد کردہ گیس پاکستان میں پیدا ہونے والی کل گیس کا تقریباً 20فیصد ہوگی جو حکام کے مطابق تمام کی تمام بجلی کے شعبے کے لیے وقف ہوگی جو سنگین بحران کا شکارہے۔اس سے تقریباً پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی پیدوارمیں مدد ملے گی جس سے سالانہ متبادل توانائی کی مد میں بہت بچت ہوگی۔

معاہدے کی رو سے منصوبے پر عمل درآمد 2014کے آخر تک مکمل ہو جائے گاجس کے بعد ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔

ایران کی قومی آئل کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ایس آر کاسی زادہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے ملک کی حدود میں تقریباً 900کلومیٹر تک پائپ لائن بچھائی جاچکی ہے اور باقی صرف 250کلومیٹر مزید بچھانا باقی ہے۔

خیال رہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر 1990ء کے اوائل میں غور شروع ہوا تھا جو مختلف سیاسی، مالی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار رہا۔ اب بھارت اگرچہ اس منصوبے میں شامل نہیں ہے لیکن دونوں ملکوں کا کہنا ہے کہ بھارت یا چین کے لیے اس میں شمولیت کے دروازے کھلے ہیں۔

XS
SM
MD
LG