رسائی کے لنکس

ایران کے بارے میں امریکی حکمت عملی کا ایک تجزیہ

  • گیری تھامس

ایران کے بارے میں امریکی حکمت عملی کا ایک تجزیہ

ایران کے بارے میں امریکی حکمت عملی کا ایک تجزیہ

مغربی ممالک اورایران کے درمیان تہران کے نیوکلیئر عزائم کے بارے میں آٹھ برس سے جھگڑا چل رہا ہے۔ ایران آج کل خلیجِ فارس میں فوجی مشقیں کر رہا ہے اور امریکہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوششیں کر رہا ہے۔

امریکی کانگریس میں حالیہ سماعت کے دوران محکمہ دفاع کی انڈر سکریٹری برائے پالیسی، میچل فلورنی نے کہا کہ ایران کو نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لیے اوباما انتظامیہ نے فوجی کارروائی سمیت تمام راستے کھلے رکھے ہیں’’جیسا کہ صدر نے کہا ہے ہم نے اپنے لیے تمام راستے کھلے رکھے ہیں۔ ہم اسے محکمہ دفاع کی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ ہم ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں اوراگر ضروری ہو جائے تو صدر کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے کے بہت سے متبادل طریقےموجود ہوں ۔

لیکن جیسا کہ وزیرِ دفاع گیٹس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین مائک ملن نے کہا ہے فوجی کارروائی کے طریقے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارا اب بھی یہی خیال ہے کہ اس مرحلے پر موئثر ترین طریقہ یہ ہے کہ سفارتکاری اور دباو کے ذریعے ایران کا طرزعمل تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے‘‘۔

لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران کا طرزعمل تبدیل کرنے کی بات کرنا آسان ہے اوراس مقصد کو حاصل کرنا مشکل ہے۔ اگر ایران نے نیوکلیئر طاقت بننے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی کچھ نہ کر سکیں۔ ایران اس بات سےانکار کرتا ہے کہ اس کے کسی قسم کے نیوکلیئرعزائم ہیں۔ لیکن مذاکرات جو کبھی رُک جاتے ہیں اور پھرشروع ہو جاتے ہیں اور جن کے بارے میں ایران کا موقف بھی بار بارتبدیل ہوتا رہتا ہے اب تک بے نتیجہ رہے ہیں۔

لندن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فاراسٹریٹجک اسٹڈیز کے مارک فیٹزپیٹرک کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسی قسم کا تعطل پیدا ہونے والا ہے جیسا کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات میں تھا’’

میرے خیال میں ہمارے اور ایران کے درمیان ایک طویل سرد جنگ شروع ہو چکی ہے جس کے دوران وہ اپنے عزائم میں آگے بڑھتا رہے گا۔ اسے اپنے پروگرام میں ٹیکنیکل دشواریاں پیش آتی رہیں گی۔ وہ نیوکلیئر اسلحہ تیار کرنے میں ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گا کیوں کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگائی جائیں گی جس سے اس کی معیشت متاثر ہوگی لیکن ضروری نہیں کہ وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے‘‘۔

بعض دوسرے تجزیہ کاروں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے فیٹزپیٹرک کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ مغربی ملکوں کو ایسا ایران قبول کرنا پڑے جس میں نیوکلیئر اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت تو ہو لیکن جس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہ ہوں یعنی جو ایٹم بم بنا تو سکتا ہے لیکن ان کی تیاری سے کچھ پہلے رُک جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایران جانتا ہے کہ اگر اس نے نیوکلیئر بم کا کوئی آزمائشی دھماکہ کیا انسپکٹروں کو ایران سے نکالا یا کوئی اورایسا اشارہ دیا جس سے بم بنانے کی نشاندہی ہوتی ہو تو پھر اس کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان بہت بڑھ جائے گا۔

آئی ایچ ایس جینز بلیکیشن کے ٹیٹ نارکن کہتے ہیں کہ فوجی کارروائی سے ایران کا پروگرام مکمل طور سے رُک نہیں سکتا لیکن اس سے تصادم اور زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ ’’آپ فوجی کارروائی سے ان کے پروگرام کو کئی مہینے پیچھے تو لے جا سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح یہ تصادم زیادہ وسیع علاقے میں پھیل سکتا ہے جس کے نتائج کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ اگر اس سلسلے میں کوئی غلط اندازہ لگایا گیا تو یہ خطرہ بہت زیادہ ہے کہ یہ تنازعہ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لے‘‘۔

یہ بھی ممکن ہے کہ پروگرام کو داخلی طور پر سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے لیکن اس قسم کے اقدامات کے بارے میں کبھی کُھل کر بات نہیں کی جاتی۔

اسرائیل کوایران کے عزائم کے بارے میں بدستور سخت پریشانی ہے خاص طور سے صدر احمدی نژاد کے اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے اورہولوکاسٹ سے انکار کے بیانات کے بارے میں۔ اگر ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر کوئی حملہ ہواتو عین ممکن ہے کہ یہ اسرائیل کی طرف سے ہو اگرچہ طویل فاصلے اور درمیان میں غیر دوستانہ فضائی علاقے کی موجودگی سے اس کارروائی میں کچھ دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مارک فیٹزپیٹرک کہتے ہیں کہ پابندیوں سے ایران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام سے باز نہیں رکھا جا سکتا لیکن ان سے بعض دوسرے مقاصد ضرور حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً پابندیوں سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اگر ایران سخت موقف اختیار کرتا ہے تواسےاس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

پابندیوں سے بعض ضروری مشینوں اور آلات تک ایران کی رسائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اس طرح اسے بعض پرزے خود تیار کرنے پڑیں گے ۔ ہو سکتا ہےکہ ان کی کوالٹی اچھی نہ ہو۔ مثلاً ایران اب یورینیم کی افژودگی میں کام آنے والے سینٹری فویجز کے پرزے خود بنا رہا ہے اور ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان پرزوں کے ٹوٹنے کی شرح بہت اونچی ہے ۔ پابندیوں کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ ان سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موئثر ہونے کا اظہار ہوتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG