رسائی کے لنکس

ایرانی صدر سے جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کی ملاقات


صدر روحانی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر نے یوکیا امانو کو یقین دلایا کہ ایران معاہدے میں عائد شرائط کی رضاکارانہ طور پر مکمل پاسداری کرے گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد میں اپنا کردار غیر جانبداری سے ادا کرے۔

صدر روحانی نے یہ بات ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو کے ساتھ ملاقات میں کہی جنہوں نے اتوار کو تہران میں ان سے ملاقات کی۔

یوکیا امانو اتوار کی صبح تہران پہنچے تھے۔ اپنے دورے کے دوران وہ ایرانی قیادت کے ساتھ جوہری معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔

ملاقات کےبعد صدر روحانی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر نے یوکیا امانو کو یقین دلایا کہ ایران معاہدے میں عائد شرائط کی رضاکارانہ طور پر مکمل پاسداری کرے گا۔

صدر روحانی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 'آئی اے ای اے' ایران کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کا غیر جانبداری سے مشاہدہ کرے گی اور معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے خود پر عائد ذمہ داری نبھائے گی۔

ملاقات میں ایرانی صدر نے اپنے ملک کے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ ایران کا جوہری ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور اس کا جوہری پروگرام سراسر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی ایجنسی کے بار بار معائنوں اور نگرانی کے دوران بارہا یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن ہے جس کی کوئی عسکری جہت نہیں۔

بیان کے مطابق یوکیا امانو نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ ان کی ایجنسی ایران اور دنیا بھر میں اپنی سرگرمیاں "پوری غیر جانبداری سے انجام دیتی ہے اور حقائق کو جوں کا توں پیش کرتی ہے۔"

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو 15 اکتوبر کی ڈیڈلائن سے قبل ان الزامات سے متعلق تمام معلومات اکٹھی کرنی ہے کہ ایران ماضی میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ایجنسی ایرانی جوہری تنصیبات کے تفصیلی معائنے اور متعلقہ حکام سے ملاقاتوں کے بعد اپنی حتمی رپورٹ 15 دسمبر تک فریقین کو پیش کرے گی جس کے بعد جوہری معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے جولائی میں ہونے والے اس معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی مشترکہ طور پر 'آئی اے ای اے' کو سونپی ہے جس کے افسران نگرانی کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ مشاورت میں مسلسل مصروف ہیں۔

معاہدے کے تحت ایران اپنی جوہری سرگرمیاں بتدریج کم کرے گا جس کے جواب میں امریکہ اور یورپی ممالک اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھالیں گے۔

XS
SM
MD
LG