رسائی کے لنکس

اپنے سخت گیر پیش رو محمود احمدی نژاد کے برعکس روحانی نے اس موقع کو امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کیا۔

ایران کے صدر نے سالانہ فوجی پریڈ کے موقع پر کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی حملے کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حسن روحانی نے جمعہ کو تہران میں کہا کہ ان کا ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کرے گا لیکن کسی بھی "جارحیت کی مزاحمت" کرے گا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ " ہم جنگ کے پیچھے نہیں ہیں، ہم منطق کے پیچھے ہیں اور ہم بات چیت کے پیچھے ہیں۔"

اپنے سخت گیر پیش رو محمود احمدی نژاد کے برعکس روحانی نے اس موقع کو امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کیا۔

صدر نے اپنے ہمسایہ ممالک کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ ایران ان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور ان کے بقول "پڑوسیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ ہماری فوج امن و استحکام کی حامی ہے۔"

جمعہ کو ہونے والی پریڈ میں ایران نے اپنے فوجی سازو سامان کی نمائش بھی کی۔

اپنے انتخاب کے بعد سے روحانی مغربی ممالک کے ساتھ تہران کے متنازع جوہری پروگرام کے معاملے کے حل اور تکلیف دہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا عزم دہراتے آئے ہیں۔

مغرب ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ تہران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔
XS
SM
MD
LG