رسائی کے لنکس

ایران کا تیل کی پیداوار کم کرنے سے انکار


تہران کے نواح میں واقع ایک ایرانی آئل ریفائنری کی فائل فوٹو

تہران کے نواح میں واقع ایک ایرانی آئل ریفائنری کی فائل فوٹو

ایرانی سفیر کے بقول اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی اور کھپت میں توازن پیدا کرنے کی بنیادی ذمہ داری بھی انہی ملکوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ماضی میں اس توازن کو بگاڑا تھا۔

ایران نے تیل برآمد کرنے والے دیگر ملکوں کی جانب سے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو سہارا دینے کے لیے پیداوار کم کرنے کی اپیلیں مسترد کردی ہیں۔

تیل کے پیداواری ممالک کی نمائندہ تنظیم 'اوپیک' کے لیے ایران کے سفیر مہدی اصالی نے کہا ہے کہ ایران تیل کی برآمد کم کرنے کے بجائے آئندہ مہینوں کے دوران اپنی پیداوار کو اس سطح تک لے جائے گا جتنا وہ ایران پر عائد پابندیوں سے قبل تھی۔

ایران اور چھ بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے پر گزشتہ ماہ عمل درآمد شروع ہونے کے بعد ایران پر عائد بیشتر بین الاقوامی پابندیاں اٹھالی گئی تھیں جس کے بعد اسے اپنا تیل بین الاقوامی منڈی میں بیچنے کی اجازت مل گئی ہے۔

پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ چھ سے 12 ماہ کے دوران مزید 10 لاکھ بیرل تیل یومیہ برآمد کرے گی۔

اگر ایرانی حکومت نے اپنے منصوبے کے مطابق عالمی منڈی میں سپلائی جاری رکھی تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا خدشہ ہے جو پہلے ہی 30 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہیں۔ تیل کی یہ قیمت جون 2014ء کی قیمت سے کئی گنا کم ہے جب تیل 115 ڈالر فی بیرل کی سطح پر تھا۔

ایران پر 2012ء میں تیل کی برآمد سے متعلق بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن سے قبل ایران فی یوم 25 لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا تھا۔ پابندیوں کے بعد ایران کی یومیہ برآمد 11 لاکھ بیرل رہ گئی تھی۔

'اوپیک' کے دیگر بڑے رکن ملکوں – عراق، وینزویلا اور قطر - کے نمائندوں نے بدھ کو تہران میں ایران کی وزارتِ تیل کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی جس میں تیل کی برآمدات میں کمی کے مجوزہ منصوبے پر غور کیا گیا۔

ملاقات میں ایک روز قبل عالمی منڈی میں تیل کے چار بڑے سپلائرز – سعودی عرب، روس، وینزویلا اور قطر – کے مابین دوحا میں ہونے والے اس اتفاقِ رائے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس کے تحت ان ملکوں نے تیل کی پیداوار کو جنوری 2016ء کی سطح پر منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن پیداوار نہ بڑھانے کے اس فیصلے پر عمل درآمد صرف اسی صورت میں ہوسکے گا جب تیل پیدا کرنے والے دیگر بڑے ممالک بھی اس اتفاقِ رائے کا حصہ بن کر اپنی پیداوار کو گزشتہ ماہ کی سطح پر منجمد کریں گے۔

معاہدہ کرنے والے چاروں ملکوں کو امید ہے کہ پیداوار کو جنوری کی سطح تک محدود رکھنے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

لیکن ایرانی حکام نے اس اتفاقِ رائے کا حصہ بننے کا امکان مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ایران اپنے اہداف کے مطابق پیداوار جاری رکھے گا۔

بدھ کو ایک ایرانی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے 'اوپیک' میں ایران کے سفیر مہدی اصالی نے کہا کہ آج ایران سے پیداوار میں کمی کا تقاضا وہی ممالک کر رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں ایران پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد اپنی پیداوار میں 40 لاکھ بیرل فی یومیہ کا اضافہ کردیا تھا۔

ایرانی سفیر کے بقول اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی اور کھپت میں توازن پیدا کرنے کی بنیادی ذمہ داری بھی انہی ملکوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ماضی میں اس توازن کو بگاڑا تھا۔

مہدی اصالی نے کہا کہ پیداوار کو جنوری کی سطح پر منجمد کرنے پر اتفاق کرنے والے چاروں ملک اگر اپنی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کرلیں تو وہ اپنے تئیں ہی تیل کی قیمت میں استحکام لاسکتے ہیں۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے عالمی منڈی میں کھپت اور فراہمی میں توازن لانے کے لیے اپنی برآمدات کم نہ کیں تو تیل کی قیمت 20 ڈالر فی بیرل تک گرسکتی ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گزشتہ ڈیڑھ سال سے گراوٹ کا شکار ہیں جس کے باعث روس اور وینزویلا سمیت ان ملکوں کو سخت مالی مسائل اور بجٹ خسارے میں اضافے کا سامنا ہے جن کی قومی آمدنی کا دارومدار بڑی حد تک تیل کی برآمد پر ہے۔

XS
SM
MD
LG