رسائی کے لنکس

مغربی ممالک کی جانب سے ایران کی تبادلہ ڈِیل پر محتاط سا خیر مقدم


ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست

تعزیرات کا خاتمہ نہیں ہوگا جب تک ایران، عالمی برادری پر ثابت نہیں کر دیتا کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے: برطانیہ

امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے جوہری پرگرام پر سخت تشویش ہے، اگرچہ ایران نے کچھ افزودہ یورینیم، ترکی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ تہران بارہ سو کلوگرام کمتر مقوی یورینیم کے بدلے میں ( جو کہ اس کے ذخیرے کا نصف سے ذرا زیادہ ہے) اعلٰی تر افزودہ ری ایکٹر ایندھن حاصل کرنے پر تیار ہے۔

وہائیٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے پیر کے روز بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ مثبت اقدام ہوگا کہ وہ کمتر افزودہ یورینیم کو اپنی سر زمین سے باہر کر دے۔ تام مسٹر گبز نے کہا کہ ایران کا یہ کہنا کہ وہ اپنا 20 فی صد افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی واضح خلاف ورزی ہے۔

درایں اثنا برطانوی عہدیدار ایلسٹیئر برٹ نے کہا ہے کہ ایران پر تعزیرات کا چوتھا دور اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک ایران، عالمی برادری پر ثابت نہیں کر دیتا کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

روسی صدری دمتری میدویدیف نے بڑے محتاط انداز میں ایران کا خیر مقدم کیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر تیار ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام بڑی طاقتوں سے مشاورت ضروری ہے تاکہ اس تشویش کا سد باب بھی کیا جا سکے کہ ایران بدستور یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG