رسائی کے لنکس

ایران روس تعلقات اور ایئر ڈیفنس سسٹم کا معاہدہ

  • ایل پیسن
  • عمران صدیقی

ایران روس تعلقات اور ایئر ڈیفنس سسٹم کا معاہدہ

ایران روس تعلقات اور ایئر ڈیفنس سسٹم کا معاہدہ

ایران نے اپنے دفاعی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے روس سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کا معاہدہ کیا تھا مگر حال ہی میں روس کی جانب سے اس دفاعی نظام کی فراہمی سے انکار کے بعد ایران نے عالمی عدالت انصاف میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن تجریہ کاروں کا کہناہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تعاون متاثر نہیں ہوگا ۔
اس تنازع کا اصل سبب S-300 طیارہ شکن میزائل ہیں ۔ روس نے ایران کو یہ میزائل فروخت کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن اب اس کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی بنا ء پر ایسا نہیں کر سکتا ۔ روسی ماہرجیمز نکسی کہتے ہیں کہ ہم روس اور ایران کے تعلقات میں اس وقت ایک غیر معمولی بگاڑ دیکھ رہے ہیں ۔ وہ تاریخی طور پر ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں ۔ لیکن آخر کار اب روس بھی ایران کو اتنی ہی بے اعتباری سے دیکھ رہا ہے جیسے مغرب روس کو دیکھتا ہے ۔
جیمز نکسی کہتے ہیں کہ روسی راہنماؤں کے نزدیک اب مغرب سے تعلقات اتنے اہم ہیں کہ وہ ایران کی خفگی قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہناہے کہ میرے خیال میں حقیقت یہ ہے کہ روس اب بھی کچھ معاملات پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خلا ف جانے کو تیار ہے ۔ وہ پہلے بھی ایسا کر چکا ہے ، اور اس نے ایسا تیسرے فریقوں کے ذریعے بھی کیا تھا ۔ وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتا ہے ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ روس دوسروں سے مختلف سیاسی طاقت ہے ۔ اس نے S-300 کے سودے کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ لگا یا ہوگا اور پھر اپنے طور پر سوچا ہوگا کہ شائد یہ وقت اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لئے مناسب نہیں ۔
سیکیورٹی فرم آئی ایچ ایس جیمز سےمنسلک تجزیہ کار گالا ریانی کا کہنا ہے کہ یہ ایران کے لیے اچھی خبر نہیں ہے ۔ان کے مطابق اس پورے عرصے میں روس کو ایران کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا رہا ہے۔ قریبی دوستی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ روس کو ابھی تک کئی اعتبار سے سپر پاور سمجھا جاتا ہے ،اور اس طاقت کو اپناحامی رکھنا ایران کے لیے اہم ہے ۔لیکن اب کسی حد تک یہ اتحاد کمزور پڑ گیا ہے ، کیوں کہ روس مغربی موقف پر زیادہ کاربندنظر آرہا ہے ۔
لیکن ایران روس کے ساتھ اپنے تعلقات سے مایوس نہیں ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اگست میں ماسکو کا دورہ کیا تھااور ایران اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق روس کی تجویز کا خیر مقدم کر چکاہے ۔
گالاریانی کا کہناہے کہ اس وقت ایران اور روس کے تعلقات میں ایک بار پھر گرمجوشی آرہی ہے ۔ ایرانی عہدے دار روس کے بارے میں پہلے سے زیادہ مثبت انداز سے بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اس کے ساتھ تعلقات کا مکمل خاتمہ نہیں چاہتے اس لیے کہ وہ ابھی تک اس پر کسی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
روس کی طرف سے طیارہ شکن ہتھیاروں کی فروخت کی منسوخی اور ایران کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں جانے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے نقصان دہ سمجھے جا رہے ہیں ، لیکن انہیں بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اور کچھ تجزیہ کار وں کا خیال ہے کہ روس آخر کار پابندیوں کے اندر رہتے ہوئے مفاہمت کا کوئی راستہ ضرور تلاش کرے گا ۔

XS
SM
MD
LG