رسائی کے لنکس

جوہری مذاکرات: ایران کی جانب سے روسی منصوبے کا خیرمقدم


ایران کے وزیر خارجہ اپنے روسی ہم منصب کے ہمراہ

ایران کے وزیر خارجہ اپنے روسی ہم منصب کے ہمراہ

ایران کے وزیرِ خارجہ علی اکبر صالحی نے ایران کے جوہری پروگرام پر تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے روس کے پیش کردہ منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایرانی وزیرِخارجہ نے یہ بیان بدھ کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد کیا جن کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اس منصوبے کی بدولت فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد ملے گی۔

روسی وزیرِ خارجہ کی جانب سے گزشتہ ماہ پیش کردہ منصوبے میں ایران سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی کے خدشات دور کرے جس کے جواب میں ایران پر عائد پابندیوں کو مرحلہ وار نرم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

ایران کے جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی نے گزشتہ روز ایران کے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ مجوزہ منصوبہ جوہری سرگرمیوں پر مذاکرات کے دوبارہ آغازکے لیے "بنیاد" فراہم کرسکتا ہے۔

جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتوں کی جانب سے ایران پر عائد کردہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات کی تحقیقات میں تہران ایجنسی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں ایران اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کےپانچ مستقل ارکان - برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ – اور جرمنی کے مابین ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

XS
SM
MD
LG