رسائی کے لنکس

امریکہ اور یورپی یونین کی ایران کے خلاف نئى پابندیوں کی دھمکی


امریکہ اور یورپی یونین کی ایران کے خلاف نئى پابندیوں کی دھمکی

امریکہ اور یورپی یونین کی ایران کے خلاف نئى پابندیوں کی دھمکی

یورپی یونین اور امریکہ نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی اُن کوششوں کی پروا نہ کرنے پر، جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پُر امن ہو، وہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی نئى پابندیوں کے لیے کوشش کریں گے۔

یورپی یونین اور امریکہ کے سفارت کاروں نے بدھ کے روز وی آنا میں ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی یا آئى اے ای اے کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایک اجلاس کے بعد ایران کے لیے یہ انتباہ جاری کیا ہے۔

آئى اے ای اے کے لیے سپین کے وفد نے یورپی یونین کی نمائندگی کی اور غیر معمولی طور پر ایک سخت بیان میں ایران کے طرزِ عمل پر نکتہ چینی کی۔

یورپی یونین کے بیان میں ایران پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمّے داریاں پوری کرنے میں ”مسلسل ناکام “ رہا ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر تہران نے اسی طرزِ عمل کو جاری رکھا تو یورپی یونین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ”اقدام“ کی حمایت کرے گی۔ ایران مغرب کے اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم کو افزودہ کر رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے بدھ کے روز برازیل میں اُس ملک کے صدر لوئیس اناسیو ڈی سِلوا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی نئى پابندیوں کی حمایت کریں۔اُن کے درمیان مذاکرات سے پہلے برازیل کے لیڈر نے خبر دار کیا تھا کہ ایران کے لیے تمام راستے بند نہ کیے جائیں اور انہوں نے کہا ہے کہ بات چیت ایک بہتر حکمت عملی ہے۔

برازیل اقوامِ متحدہ کی 15 رُکنی سلامتی میں ووٹ دینے والا ایک رکن ہے۔ تاہم اُس کے پاس کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی مانند وِیٹو کا اختیار نہیں ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ ریسرچ کے ایک ری ایکٹر کے لیے ایندھن بنانے کے مقصد سے یورینیم کو افزودہ کر رہا ہے۔

یورپی یونین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کام کے لیے ایران کے محرّکات مشکوک ہیں۔ اس لیے کہ بظاہر تہران کے پاس وہ ٹیکنالوجی نہیں ہے جس کی ری ایکٹر کے لیے ایندھن بنانے میں ضرورت پڑتی ہے۔

آئى اے ای اے کے لیے امریکہ کے ایلچی گلن ڈیِوس نے کہا ہے کہ ایران اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے ساتھ ” چوہے اور بلّی“ کا کھیل کھیل رہا ہے اور اُس نے بین الاقوامی برادری کے لیے” مزید اور زیادہ سخت پابندیاں“ عائد کرنے کے سوااور کوئى راستا باقی نہیں رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG