رسائی کے لنکس

ایران کی حکومت کے خلاف اور زیادہ سخت پابندیاں


امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئر مین، ہاورڈ برمین

امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئر مین، ہاورڈ برمین

اس ہفتے صدر اوباما نے اعلان کیا کہ وہ ایران کی حکومت کے خلاف اور زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیئے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔

ایران پر اقتصادی دباوْ بڑھانے کے لیئے امریکی کانگریس میں قانون کے جو مسودے زیر غور ہیں، اس اعلان کے بعد انہیں آخری شکل دینے کے لیئے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں کارروائی تیز ہو جائے گی۔

یہ تیزی ایران کے اس اعلان کے بعد آئی ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو بیس فیصد تک بڑھا رہا ہے۔

گذشتہ سال ایوانِ نمائندگان نے Iran Refined Petroleum Sanctions Act منظور کیا جس کے تحت ایسے تمام افراد، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو پٹرول اور دوسری مصنوعات کی درآمد میں ایران کی مدد کریں گے، یا اس کی خام تیل کوصاف کرنے کی گنجائش بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔ اس کے بعد سینیٹ نے جنوری میں Comprehensive Iran Sanctions, یہ بل منظور کیا جس کا مقصد ایران پر بڑے پیمانے پر پابندیاں لگانا اور اس کا احتساب کرنا شامل تھا۔

ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئر مین، ڈیموکریٹ ہاورڈ برمین نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد صرف ایک ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: ایران کو، جو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا اہم ترین ملک ہے، نیوکلیئر اسلحہ کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا۔ اگر اس نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تو اس سے ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے شاید سنگین ترین سٹریٹجک خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

اس ہفتے ایک بیان میں مسٹر برمین اس حد تک تو نہیں گئے کہ وہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے منظور شدہ قوانین کے مسودوں کو ملا کرایک حتمی قانون کی شکل دیں گے جسے دونوں ایوانوں کی منظوری کے بعد صدر اوباما کی منظوری کے لیئے بھیجا جا سکتا تھا لیکن انھوں نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ وہ اس بات کو ترجیح دیں گے کہ مذاکرات سمیت سفارتی اقدامات کامیاب ہوجائیں، اور اگر ضروری ہو تو اس سے پہلے کہ امریکہ کی طرف سے اور زیادہ سخت پابندیاں عائد کی جائیں، کئی ملکوں کی طرف سے عائد ہونے والی پابندیوں پر غور کیا جائے ۔

گذشتہ سال برمن کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے ، مشرق قریب کے امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ، جیفری فیلٹ مین نے بتایا تھا کہ اوباما انتظامیہ 1996 کے Iran Sanctions Act پر عمل در آمد کا کس طرح جائزہ لے رہی ہے۔ اس جائزے میں اُن کمپنیوں کا جائزہ بھی شامل تھا جن کا ذکر امریکی کانگریس کے ارکان نے اپنے خط میں کیا تھا اور جو اس وقت بھی ایران کے ساتھ کاروبار کر رہی تھیں۔ مسٹر فیلٹ مین کے الفاظ ہیں: ہم نے اُن 20 کمپنیوں کے معاملات کا اور ان 20 سودوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جن کا ذکر آ پ نے اپنے خط میں کیا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ابتدائی جائزہ 45 دنوں میں مکمل کر لیں گے۔ اس کے بعد ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ان میں سے کونسی کمپنیوں کی مزید تفتیش کی ضرورت ہے یعنی انھوں نے Iran Sanctions Act کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

ریپبلیکن ارکان ِ کانگریس جیسے ریاست ٹیکسس کے مائیکل مکال کا کہنا ہے کہ یہ بات یقینی نہیں کہ نئے قانون پر عمل در آمدہو سکے یا یہ موثر ہوسکے کیوں کہ غیر ملکی کمپنیاں توانائی کے شعبے میں ایران کی مدد کرتی رہتی ہیں۔ انھوں نے کہا: کیا یہ بھی ایسا ہی ایک بیان ہو گا جو ہم کانگریس میں دیتے رہتے ہیں، اور جو بالکل بےاثر ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جب یہ قانون کانگریس سے منظور ہو جائے گا، تو وینزویلا پیٹرولیم سے تیار شدہ اشیاء ایران بھیجتا رہے گا، اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چین بھی ،اور دوسرے بہت سے ملک بھی، یہی سب کچھ کرتے رہیں گے ۔

اگرچہ امریکی کانگریس نے انتظامیہ کو سفارتی ذرائع استعمال کرنے کا وقت دیا ہے، لیکن صدر اوباما پر اس وقت اور زیادہ دباؤ پڑا جب دونوں پارٹیوں پر مشتمل سینیٹرز کے ایک گروپ نے ان پر زور دیا کہ وہ ان اختیارات کو استعمال کریں جوکانگریس پہلے ہی منظور کر چکی ہے اور ایسی پابندیاں عائد کریں کہ ایران مفلوج ہو کر رہ جائے ۔

امریکہ کی بزنس کمیونٹی کی طرف سے بھی ایران پر مزید پابندیوں کی مزاحمت جاری ہے ۔ امریکہ کی چیمبر آف کامرس اور نیشنل فارن ٹریڈ کونسل نے انتباہ کیا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے امریکہ کے اتحادی ملکوں کے ساتھ اقتصادی، سفارتی اور قانونی مسائل پیدا ہوں گے اور ان اقدامات کی وجہ سے ، امریکی کمپنیاں اپنے بعض اہم شراکت داروں کے ساتھ جو کام کرتی ہیں، ان میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

امریکہ کے ایوان ِ نمائندگان میں انتہائی شدید سردی اورخراب موسم کی وجہ سے قانون سازی کا کام پیچھے جا پڑا ہے ۔ ایران پر مزید پابندیوں کے بارے میں اگلے اقدامات کیا ہوں گے، یہ بات اس مہینے کے آخر تک واضح نہیں ہو سکے گی۔ ہو سکتا ہے کہ فوری کارروائی کے لیئے سینیٹ میں مزید دباو ڈالا جائے۔

اوباما انتظامیہ نے ان کمپنیوں، بنکوں اور دوسرے اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا جو ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ ہیں اور جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے نیوکلیئر عزائم میں مدد دینے میں ملوث ہیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کا کہنا ہے کہ جو پابندیاں پہلے ہی لگائی جا چکی ہیں وہ موثر ثابت ہوئی ہیں، اور ایرانی عوام پر مزید بوجھ ڈالے بغیر، ایرانی حکومت پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG