رسائی کے لنکس

ایران پر نئی پابندیوں کی اہمیت،حقیقی یا علامتی

  • گیری تھامس

ایران پر نئی پابندیوں کی اہمیت،حقیقی یا علامتی

ایران پر نئی پابندیوں کی اہمیت،حقیقی یا علامتی

امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کی ایک فہرست اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے رکھی ہے ۔لیکن چین اور روس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان پابندیوں کو بہت نرم کرنا پڑا ہے ۔ایران کے ساتھ ان دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات ہیں اور انہیں پابندیوں کی حمایت میں تامل رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران پر نئی پابندیوں کی اہمیت حقیقی نہیں بلکہ محض علامتی ہے ۔

گذشتہ سال وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے انتباہ کیا کہ اگر ایران نے اپنے نیوکلیئر عزائم ترک نہ کیے تو اس پر اقوامِ متحدہ کی طرف سے ایسی پابندیاں لگائی جائیں گی جو اسے مفلوج کر کے رکھ دیں گی۔لیکن جب انھوں نے اس مہینے کے شروع میں اعلان کیا کہ سلامتی کونسل کے پانچ ارکان پابندیوں کے مسودے پر متفق ہو گئے ہیں تو امریکہ کی سفارتی زبان میں سے مفلوج کرنے والی پابندیوں کے الفاظ غائب ہو چکے تھے ۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا’’میں بڑی مسرت سے اس کمیٹی کے سامنے یہ اعلان کر رہی ہوں کہ روس اور چین دونوں کے تعاون سے ہم ایسے مسودے پر متفق ہو گئے ہیں جس کے تحت ایران پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔‘‘

تجزیہ کار توجہ دلاتے ہیں کہ قرارداد کے اس مسودے میں ، جس کے تحت ایران پر اقوامِ متحدہ کی طرف سے چوتھی بار پابندیاں لگائی جائیں گی، موجودہ پابندیوں میں معمولی سی اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس مسودے میں ایرانی بنکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان بحری جہازوں کے معائنے کے لیے کہا گیا ہےجن میں ایران کے نیوکلیئر یا مزائل پروگرام کے لیے سامان ہو سکتا ہے ۔لیکن ان معائنوں کے لیے ایران کی رضامندی ضروری ہوگی اور ان پر عمل در آمد کا کوئی طریقہ ٔ کار متعین نہیں کیا گیا ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ایران کی پیٹرول کی تجارت پر کوئی پابندیاں نہیں لگائی گئ ہیں ۔

پرائیویٹ انٹیلی جنس فرم سٹارٹ فارکی تجزیہ کار رِیوا بھلا کہتی ہیں کہ یہ قرار داد ایک لحاظ سے بے معنی ہے کیوں کہ چین اور روس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسے نرم کرنا پڑا تھا۔’’یہ مسودہ محض سفارتی دنیا کے دکھانے کے لیے ہے۔ امریکہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ بہت سے ملکوں کا اتحاد، خاص طور سے روس اور چین، ایران کے خلاف موقف اختیار کرنے کو تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مسودہ اتنا کمزور ہے۔ اس میں توانائی کے معاملے کا ذکر تک نہیں کیا گیا ہے۔ آج کل ایران کے خلاف جو پابندیاں عائد ہیں، اس مسودہ میں انھیں تھوڑی وسعت دے دی گئی ہے۔‘‘

لیکن محکمۂ خارجہ کے سابق انڈر سیکرٹری نکولس برنز نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مجوزہ پابندیوں کا عملی طور سے کوئی زیادہ اثر نہ ہو لیکن ان کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے’’یہ بات بہت اہم ہے کہ سلامتی کونسل اس نکتے پر متفق ہو گئی ہے کہ ایران نے صحیح بات نہیں بتا ئی ہے اور 2006 اور 2008 کے درمیان پابندیوں کی جو تین قرار دادیں منظور ہوئی تھیں، ان کی تعمیل نہیں کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایران کو ایسا ملک قرار دینا جو قانون کے دائرے سے باہر ہے، بہت اہم ہے۔‘‘

وزیرِ خارجہ کلنٹن کا اعلان ایران کے اس بیان کے بعد آیا جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ اپنے افژود شدہ یورینیم کا ایک حصہ ترکی بھیجے گا اور اس کے عوض نیوکلیئر ری ایکٹر کا ایندھن وصول کرے گا۔ اس سے ملتی جلتی تجویز گذشتہ سال پیش کی گئی تھی لیکن ایران نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ اب ایران کے پاس اور زیادہ جوہری مواد موجود ہے ۔امریکی عہدے داروں کے تبصروں کی تائید کرتے ہوئے نکولس برنز نے کہا کہ یورینیم کے عوض ایندھن حاصل کرنے کی تجویز سے ظاہر ہوتا ہےکہ ایران نئی پابندیوں کے سلسلے میں بین الاقوامی اتفاق رائے میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بےچین ہے ۔

برنز کہتے ہیں’’میں سمجھتا ہوں کہ ترکی اور برازیل کے ساتھ جو معاملہ طے پایا ہے وہ بڑا افسوس ناک ہے ۔ ترکی اور برازیل کے ارادے کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں صدر احمدی نژاد کے ساتھ اس اعلان کا اثر یہ ہوا ہے کہ ایرانی حکومت پر دباؤ کم ہو گیا ہے اور سلامتی کونسل کے بعض ارکان کو پابندیوں کی حمایت میں ووٹ نہ دینے کا بہانہ ہاتھ آ گیا ہے ۔‘‘

امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں بھی زیرِ غور ہیں۔ ایک بِل کے تحت جس کا عنوان ہے ایران ریفائنڈ پٹرولیم سینکشن ایکٹ ، امریکہ کی عائد کردہ پابندیوں کو ایران کی طرف سے در آمد کیے جانے والے پیٹرول پر لاگو کر دیا جائے گا۔ اگرچہ ایران تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے لیکن اس کے پاس ریفائننگ کی سہولتیں بالکل نہیں ہیں اور اسے اپنے خام تیل کو پیٹرول میں تبدیل کرنے کے لیے اسے بر آمد کرنا پڑتا ہے ۔ اگر یہ بل منظور ہو گیا تو اس سے ایران کی معیشت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں یہ بل منظور ہو گیا ہے اور اب یہ کانفرنس کمیٹی میں پڑا ہوا ہے ۔ لیکن سٹارٹ فار کی رِیوا بھلا کہتی ہیں کہ اوباما انتظامیہ کواتنا سخت اقدام کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

انتظامیہ کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے۔ اسی لیے کانگریس میں یہ بِل رکا ہوا ہے اور انتظامیہ کا سار ا زوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نئی پابندیوں کے مسودے پر ہے۔ یہ خطرہ بھی ہے کہ امریکی کانگریس کے اقدام سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جو اتفاق رائے موجود ہے اس میں خلل نہ پڑ جائے ۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ اور یورپی یونین کو انتباہ کیا ہے کہ وہ ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد نہ کریں۔

XS
SM
MD
LG