رسائی کے لنکس

ایران پر تعزیرات کی توسیع کے بل پر اوباما نے دستخط نہیں کیے


صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

اگرچہ اوباما کے اقدام سے توسیع شدہ تعزیرات پر عمل درآمد نہیں رک سکے گا، تاہم بظاہر یہ صدر کی طرف سے اس اقدام کے بارے میں نا پسندیدگی کا اظہار ہے۔

صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف تعزیرات پر توسیع کے ایک بل پر دستخط نہیں کیے ہیں، یہ بظاہر تہران کے ان خدشات کم کرنے کی ایک کوشش ہے کہ امریکہ جوہری معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ اس بات کی توقع ہے کہ اوباما ایران پر تعزیرات کو دس سال تک توسیع کے بل پر دستخط کر دیں گے، تاہم اس کے لیے جمعرات کی نصف شب تک دستخط کرنے ضروری تھے تاہم صدر کی طرف سے اس بل کی منظوری دیے بغیر یہ مہلت گزر گئی۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ نے کہا کہ اوباما نے اپنے دستخطوں کے بغیر اس قانون کے بن جانے فیصلہ کیا۔

اگرچہ اوباما کے اقدام سے توسیع شدہ تعزیرات پر عمل درآمد نہیں رک سکے گا، تاہم بظاہر یہ صدر کی طرف سے اس اقدام کے بارے میں نا پسندیدگی کا اظہار ہے۔

وائٹ ہاؤس کا موقف رہا ہے کہ تعزیرات میں توسیع غیر ضروری ہے کیونکہ اگر اس کی ضرورت پڑتی ہے تو انتظامیہ کے پاس ایران کو سزا دینے کے دوسرے اختیارات موجود ہیں اور اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ (تعزیرات میں) توسیع سے جوہری سمجھوتے پر زد پڑ سکتی ہے۔

ایران نے تعزیرات میں توسیع کی صورت میں یہ موقف اخیتار کیا ایسا کرنا ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت ایران کی جوہری پروگرام پر پابندیوں کے عوض اس پر عائد تعزیرات کو ختم کیا جانا ہے۔

ایران کی حکومت نے ان تعزیرات کی توسیع پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے اور منگل کو ایران کے صدر نے جوہری توانائی سے چلنے والے بحری جہاز بنانے کے لیے ایک منصوبہ بنانے کی ہدایت کی اور امریکہ پر جوہری معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا۔

تاہم امریکی قانون سازوں کا موقف ہے کہ ایران پر تعزیرات عائد کرنے کا قانون پہلی بار 1996 میں منظور ہوا اور اس کے بعد سے اس میں کئی بار توسیع کی گئی اور یہ قانون ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ جوہری معاہدے کی پابندی کرے اور خطے میں ایران کے باعث تشویش کردار کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران پر تعزیرات کا بل امریکی سینیٹ نے متفقہ طور منظور کیا تھا اور ایوان نمائندگان میں بھی اسے بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا تھا۔


XS
SM
MD
LG