رسائی کے لنکس

ایران-سعودیہ بحران پر امریکی ردِعمل میں جوہری سمجھوتہ حائل: تجزیہ کار


فائل

فائل

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ کے خلیج کے اتحادیوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ تعزیرات میں نرمی کے بعد ایران بااختیار بن جائے گا، جو صورت حال جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کے نتیجے میں اُسے حاصل ہوگی۔ اُنھیں خوف ہے کہ طاقت ور ایران خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث بن جائے گا

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پر امریکی ردِ عمل کا اظہار کسی حد تک امریکہ کی اس خواہش پر مبنی ہے کہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ یہ بات اُن تجزیہ کاروں نے کہی ہے جن کی نگاہ اس بحران کے مطالعے پر لگی ہوئی ہیں۔

کریم سجادپور کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ 'کارنیگی انڈومنٹ فور انٹرنیشنل پیس' سے منسلک ہیں۔ بقول اُن کے، '(امریکی صدر براک) اوباما کے لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سمجھوتے کے تحفظ کو یقینی بنائیں'۔

'فرائیڈے فورم' سے خطاب میں، سجادپور نے کہا کہ 'اِس وقت امریکہ کھل کر سعودی عرب کے ساتھ نہیں ہے، جیسا کہ اس سے قبل ایران کے خلاف اس خلیجی بادشاہت کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ اس تبدیلی نے سعودی حکام کر برہم کیا ہے'۔

سجادپور کے بقول، 'اگر (ایران سمجھوتا) آپ کے ایجنڈا میں سب سے آگے ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتظامیہ یہ خیال کرتی ہے وہ اپنے بس میں وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہے جس سے ایران کے ساتھ تنائو میں کمی آسکے۔'

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ جوہری مذاکرات کار سمجھوتے پر عمل درآمد سے 'چند ہی روز دور ہیں'، جسے مشترکہ مربوط طریقہ کار کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سمجھوتے پر عمل درآمد امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے ساتھ تقریباً دو برس تک جاری رہنے والے تیکھے و ترش مذاکرات کا نتیجہ ہے۔

سجادپور نے کہا ہے کہ امریکہ کا ہدف ایران کے خلاف تعزیرات پر روک ڈالنا نہیں، جس سے کسی طرح کا کوئی ممکنہ رد عمل سامنے آئے اور یوں سمجھوتا سبوتاژ ہو۔

علاقائی قراردادیں

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، جان کِربی نے پیر کے روز کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے شیعہ عالم نمر النمر کی سزائے موت پر امریکہ نے 'خصوصی تشویش کا اظہار کیا ہے'۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران میں سعودی سفارتی مشنز پر حملوں کی مذمت کی ہے، جو سزائے موت کے بعد رد عمل کے طور پر سامنے آئے۔

کِربی نے مزید کہا کہ، 'بالآخر، خطے کے مسائل کا حل خود علاقے کے سربراہان کو خود ڈھونڈنا ہے'۔

تجزیہ کار، جے میتھیو مکینس کا تعلق 'امریکین انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ' سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سعودیوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ، بقول اُن کے، ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران امریکہ کی سوچ میں فرق آیا۔۔ عرب ملکوں سے مکمل طور پر دوری کی صورت میں نہیں، بلکہ ایران کے حق میں توازن درست کرنے کی صورت میں'۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب خطے کےملکوں کو اس بات کی زیادہ اجازت دینے لگا ہے کہ وہ اپنے طور پر کام کے اہل بنیں۔

اِسی ہی قسم کے جذبات کا اظہار فریڈرک وہرے نے کیا ہے۔ وہ 'کارنیگی انڈومنٹ فور انٹرنیشنل پیس' کے مڈل ایسٹ پروگرام میں سینئر ایسو سی ایٹ ہیں۔

بقول اُن کے، 'خطے، کم از کم خلیج کے لیے، اوباما کا نصب العین برابری کا ہے'۔

بااختیار ایران کا ڈر

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ کے خلیج کے اتحادیوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ تعزیرات میں نرمی کے بعد ایران بااختیار بن جائے گا، جو صورت حال جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کے نتیجے میں اُسے حاصل ہوگی۔ اُنھیں خوف ہے کہ طاقت ور ایران خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث بن جائے گا۔

معاملہ جب ایران کا ہو تو سعودی عرب، اور اس کے بعد کسی حد تک 'خلیج تعاون تنظیم' کے دیگر ملک 'پریشان ہوجاتے ہیں'۔ یہ بات تجزیہ کار، سائمن ہینڈرسن کہتے ہیں، جن کا تعلق 'واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فور نیئر ایسٹ پالیسی' سے ہے۔

ہینڈرسن کے بقول، 'خلیج کی ایک جانب سعودی عرب انتہائی اہم ملک ہے، تو دوسری جانب ایران ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے'۔

ایسے میں جب تہران میں سعودی سفارت خانے پر مظاہرین نے دھاوا بولا، سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے۔ عالم دین کی سزا کے معاملے پر ایران میں ابھی تک عام مظاہرے جاری ہیں۔

تاہم، اب ایسے آثار ہیں کہ دونوں کے درمیان کشیدگی ختم ہو۔

کیری نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ایران اور سعودی عرب کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور اُنھیں اس بات کی یقین دہانی دی گئی ہے کہ وہ شیعہ عالم کی سزائے موت کے معاملے پر تنائو بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے، تاکہ تعاون کے ساتھ مل کر شام کے بحران کے حل کے عزم کی جانب لوٹ سکیں۔

سعودی عرب، ایران اور امریکہ 'انٹرنیشنل سیریا سپورٹ گروپ' کا حصہ ہیں۔ یہ گروپ اقوام متحدہ کی ثالثی میں شام میں سیاسی عبوری دور کی منصوبہ بندی کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہا ہے۔ اقوام متحدہ اس بات کا خواہاں ہے کہ اس ماہ حکومتِ شام اور مخالفین کی شرکت سے اس منصوبے کا ابتدائی اجلاس منعقد کیا جائے۔

'دِی اکانومسٹ' کو انٹرویو دیتے ہوئے، سعودی عرب کے معاون ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست لڑائی ایسی بات ہے جس کا سعودیوں کے نزدیک 'قطعی کوئی امکان نہیں'۔

اُنھوں نے کہا کی ایران کی جانب سے کشیدگی کو ہوا دینے کا معاملہ پہلے ہی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے، جب کہ سعودی عرب کی یہ از حد کوشش ہے کہ کسی طور پر بھی 'کشیدگی کو مزید آگے نہ بڑھنے دیا جائے'۔

XS
SM
MD
LG