رسائی کے لنکس

مصر میں فوجی مداخلت ناقابلِ قبول ہے، ایران


ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے صدر مرسی کے دورِ حکومت میں قاہرہ کو دورہ بھی کیا تھا (فائل)

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے صدر مرسی کے دورِ حکومت میں قاہرہ کو دورہ بھی کیا تھا (فائل)

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس ارقچی نے کہا کہ اسرائیل اور مغرب ایک طاقت ور مصر نہیں دیکھنا چاہتے۔

ایران نے مصری کی فوج کی جانب سے اسلام پسند صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کی کاروائی کو "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری اسرائیل اور مغربی ممالک پر عائد کی ہے۔

پیر کو دارالحکومت تہران میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس ارقچی نے کہا کہ اسرائیل اور مغرب ایک طاقت ور مصر نہیں دیکھنا چاہتے۔

مصر میں آنے والی سیاسی تبدیلی پر ایران کا یہ بیان اس کے فوری ردِ عمل سے کہیں زیادہ سخت ہے جس میں ایرانی حکومت نے محض مصر کے عوام کے "جائز مطالبات" پورے کرنے پر زور دیا تھا۔

دیگر عرب ممالک کی طرح ایران کے مصر کے ساتھ تعلقات بھی ایک طویل عرصے تک کشیدہ رہے ہیں جن میں گزشتہ برس اسلام پسند صدر محمد مرسی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد کچھ بہتری آئی تھی۔

لیکن اس کے باوجود گزشتہ ہفتے مصری فوج کی جانب سے صدر مرسی کے خلاف بغاوت پر ایرانی حکومت نے فوری طورپر کوئی سخت ردِ عمل ظاہر کرنےسے گریز کیا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'مہر' کے مطابق پیر کو وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مصری عوام کی جائز خواہشات کو اہمیت دینا بجا لیکن سیاست میں فوجی مداخلت قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور پریشانی کا سبب ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ مصر میں آنے والی تبدیلی میں یقینی طور پر غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہیں جن کے نتیجے میں مصری معاشرہ مزید تقسیم سے دوچار ہوسکتا ہے۔

ایران کے اس انتباہ سے چند گھنٹے قبل قاہرہ میں محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے ایک مظاہرہ پر فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعہ اس فوجی بیرک کے باہر پیش آیا جہاں اطلاعات کے مطابق صدرمرسی اپنی برطرفی کےبعد سے قید ہیں۔

مصری فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افراد کے ایک جتھے کی جانب سے فوجی بیرک پر حملے کے بعد فوجی اہلکاروں کو فائرنگ کرنا پڑی تھی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔
XS
SM
MD
LG