رسائی کے لنکس

ایران کےخلاف ممکنہ اقدامات پر امریکی ارکانِ سینیٹ کاغوروغوض

  • پاؤلا سن

کیپٹل ہل

کیپٹل ہل

جان مک کین کے بقول، ‘زیادہ تر تجزیہ کاروں کے خیال میں، سلامتی کونسل کی طرف سے اب تک منظورکی جانے والی پابندیاں، غیر مؤثر ثابت ہوئی ہیں’

امریکی کانگریس اُن طریقوں پر غور کر رہی ہے جِن کی رو سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھا جاسکے۔

فوجی عہدے دار قانون سازوں کو بتا رہے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیارتیار کرنے میں کچھ ہی برس درکار ہیں۔

ارکانِ سینیٹ پالیسی کے بیشتر معاملات پراگرچہ شدومد کے ساتھ اختلافِ رائے کر سکتے ہیں، لیکن وہ ایک نکتے پر متفق ہوگئے ہیں۔

مسلح افواج کی کمیٹی کے چیرمین، کارل لیون نے کہا ہے کہ اِس بات پر اتفاق ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران خطرے کا باعث ہوگا۔

لیون کے بقول، ‘اِس کمیٹی اور کانگریس کے ایوان میں دونوں پارٹیوں کے ارکان اس عزم میں متحدہ ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے ہمیں وہ سب کچھ کرنا چاہیئے جو ہم کر سکتے ہیں۔
پینٹاگان کے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی کمیٹی کو خطرے کے بارے میں اپنے اندازے سے آگاہ کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل رونالڈ برجیس، ڈفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ہیں۔ لیون کے سوالات پر اُنھوں نے ایک نظام الاوقات فراہم کیا۔

لیون نے سوال کیا کہ جتنے سینٹری فیوجز ایران نے اب تک نصب کیےہیں، آپ کے خیال میں اندازاً کتنا عرصہ درکار ہوگا کہ وہ اِس مقدار میں انتہائی افزودہ درجے کا یورینیم تیار کرلے کہ جس سے ایک جوہری ہتھیاربنایا جاسکے۔ اِس پر، برجس نے کہا کہ ابھی تک اِس بات کا علم نہیں کہ اصل میں کتنے سینٹری فیوجز نصب ہیں جنھیں شمار کیاجا سکتا ہو۔ تاہم، اِس بات پر اتفاق ہے کہ اِس میں ایک سال لگ جائے گا۔

پینٹاگان میں دوسرے نمبر کے اعلیٰ فوجی عہدے دار، جنرل جیمز کارٹ رائیٹ نے کہا کہ اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم بنانے اور قابلِ استعمال ہتھیار تیار کرنے میں غالباً ایران کو کئی برس لگ جائیں ۔

کارٹ رائیٹ کے بقول، ‘اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم جس کی بات ہو رہی ہے، جوہری ہتھیار بنانے میں تین تا پانچ سال لگ سکتے ہیں۔’

ایوانِ نمائندگا ن کے ارکان کا خیال تھا کہ، إِس معاملے میں ایک سیکنڈ کی تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔ اُنھوں نے صدر براک اوباما کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

مراسلےپر330ارکانِ کانگریس نے دستخط کیے ہیں، جِن میں سب سے زیادہ آزاد خیال اور سب سے زیادہ قدامت پسند سب ارکان شامل ہیں۔

اُنھوں نے ایوان کے سامنے پیش کردہ بِل کی حمایت کرنے پر زور دیا، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ ایران کوپیٹرولیم کی صاف مصنوعات کی برآمد میں کمی لانے کی تجویز شامل ہے۔

اوباما انتظامیہ، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے سخت قدغنوں کے پیکیج کو منظور کرانے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

سیاسی امور کے نائب وزیر، ولیم برنز نے مسلح افواج کی آرمڈ سروسز کمیٹی کوبتایا کہ اُن کے خیال میں چین سلامتی کونسل کی قرارداد پر دستخط کرے گا۔

ولیم برنز کے الفاظ میں ‘میں سمجھتا ہوں کہ ہم اور چین إس بات پر متفق کہ ہمیں ایران کو ایک بامعنی پیغام بھیجنا چاہیئے۔اور جی ہاں، اِس لیے،میں سمجھتا ہوں کہ یہ ممکن ہے۔’

لیکن، برنز نے اشارتاً کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ چین یا روس، ایران کوصاف تیل کی فراہمی میں کمی کرنے پر تیار ہوجائیں گے۔

کمیٹی کے سینئر ری پبلیکن رُکن، سینیٹر جان مک کین واضح طور پر مایوس تھے۔

اُن کے الفاظ میں: ‘زیادہ تر تجزیہ کاروں کے خیال میں، سلامتی کونسل کی طرف سے اب تک منظورکی جانے والی پابندیاں، غیر مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔’

مک کین نے کہا کہ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو اقوامِ متحدہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی طرف سے تیزی سے پابندیاں عائد کرنا چاہئیں۔

XS
SM
MD
LG