رسائی کے لنکس

ایران: بدعنوانی کے الزام میں ارب پتی شخص کو سزائے موت


بابک زنجانی (وسط) ایران کی ایک عدالت میں پیشی کے موقع پر۔ فائل فوٹو
بابک زنجانی (وسط) ایران کی ایک عدالت میں پیشی کے موقع پر۔ فائل فوٹو

ترجمان غلام حسین محسنی اژہای کے ایک ٹیلی وژن بیان کے مطابق بابک زنجانی‎‎ اور اس نے دو رفقائے کار کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کی خورد برد، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔

ایک عدالتی ترجمان کے مطابق ایران کی ایک عدالت نے ایک معروف کاروباری شخصیت کو سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور اقتدار میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی ہے۔

ترجمان غلام حسین محسنی اژہای کے ایک ٹیلی وژن بیان کے مطابق بابک زنجانی‎‎ اور اس نے دو رفقائے کار کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کی خورد برد، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔

انہوں نے سزا پانے والے دیگر دو افراد کو نام نہیں بتایا۔ اس سے قبل سرکاری میڈیا پر آنے والی خبروں میں کہا گیا کہ ان تینوں پر جعل سازی اور دھوکہ دہی کا الزام تھا۔

ترجمان غلام حسین نے کہا کہ ’’عدالت نے تینوں ملزمان کو ’زمین پر فساد پھیلانے والے‘ قرار دیا ہے اور انہیں موت کی سزا سنائی ہے۔‘‘

یہ فیصلہ پانچ ماہ تک اس مقدمے کی سماعت کے بعد سنایا گیا اور اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

عدلیہ کی جانب سے ایک ویب سائیٹ میں دیگر دو افراد کی شناخت ایرانی نژاد برطانوی بزنس مین مہدی شمس اور سابق بزنس مین حامد فلاح کے طور پر کی گئی ہے۔

بابک زنجانی کو احمدی نژاد کے دور حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایران کی وزارت تیل کا کہنا ہے کہ بابک زنجانی پر احمدی نژاد کی حکومت کے دوران تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی 2.25 ارب ڈالر رقم واجب الادا ہے۔

بابک زنجانی ایران کے متمول ترین کاروباری شخصیات میں سے ایک ہیں۔ انہیں صدر حسن روحانی کے انتخاب کے کچھ دیر بعد گرفتار کر لیا گیا تھا جنہوں نے اپنے پیش رو کے آٹھ سالہ دور حکومت کے دوران کی جانے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

ماضی میں بھی ایران ایسے الزامات کے تحت سزا پانے والے متمول افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کر چکا ہے۔ 2014 میں ایران نے ارب پتی بزنس مین مهافريد امير خسروى کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG