رسائی کے لنکس

خامنہ ای: جوہری معاہدے کی توثیق پارلیمان سے کرانے کی حمایت


فائل

فائل

ایران کے سپریم رہنما کا کہنا تھا کہ معاہدے کو منظور یا نہ رد کرنے کا فیصلہ ایرانی پارلیمان کے ارکان کو خود کرنا ہے اور وہ انہیں اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں دیں گے۔

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والےجوہری معاہدے کی توثیق ایرانی پارلیمان سے کرانےکے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں ایران کے سپریم رہنما کا کہنا تھا کہ معاہدے کو منظور یا نہ رد کرنے کا فیصلہ ایرانی پارلیمان کے ارکان کو خود کرنا ہے اور وہ انہیں اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدہ ایران کے مستقبل سے متعلق ایک اہم پیش رفت ہے جس میں پارلیمان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایرانی سپریم رہنما نے عالمی طاقتوں کو ایک بار پھر متنبہ کیا کہ اگر ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں فوری طور پر نہ اٹھائی گئیں تو ان کا ملک معاہدہ مسترد کردے گا۔

ایرانی حکومت نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کو پارلیمان اور قومی سلامتی کونسل کی منظوری سے مشروط کر رکھا ہے جس کے بعد یہ حتمی منظوری کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کےسامنے پیش کیا جائے گا۔

امریکہ کی جانب سے بھی معاہدے پر عمل درآمد کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے جس میں اکثریت رکھنے والی جماعت ری پبلکن کے بیشتر رہنما معاہدے کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کرچکے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما واضح کرچکے ہیں کہ اگر کانگریس نے جوہری معاہدے کے خلاف ووٹ دیا تو وہ اس کےفیصلے کو ویٹو کردیں گے۔

گزشتہ روز امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے خبردار کیا تھا کہ اگر فریقین کو کسی وجہ سےجوہری معاہدے سے پیچھے ہٹنا پڑا تو یہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG