رسائی کے لنکس

اس ’تھیم پارک‘ میں آٹھ سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی جنگ کی صورت میں ہتھیار چلانے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔

ایران میں رواں ہفتے ایک ’فوجی تھیم پارک‘ کا افتتاح کیا گیا جہاں بچوں کو ہتھیار چلانے سے متعلق تربیت دی جاتی ہے۔

ایران کے مغربی شہر مشہد کے مضافات میں قائم کیے گئے اس پارک میں ہفتہ دفاع منایا گیا، 1980 کے دہائی میں عراق اور ایران کے درمیان جنگ کے تناظر میں یہ سالانہ یادگاری تقریب ہوتی ہے۔

اس ’تھیم پارک‘ میں آٹھ سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی جنگ کی صورت میں ہتھیار چلانے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔

حامد صدگئی، اس پارک میں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ’چلڈرن اینڈ فیوچر کلچر ہاؤس‘ کے مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

اُنھوں نے سرکاری خبر رساں ادارے رجا نیوز کو بتایا کہ یہاں بچوں کو ساکت اور حرکت کرتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنانے کے بارے میں سکھایا گیا ’’اہداف پر امریکی اور اسرائیلی پرچم آوزاں تھے۔‘‘

سخت گیر نظریات رکھنے والا ’رجا نیوز‘ ایران کی پاسداران انقلاب فورس سے وابستہ ہے۔ اس فورس کے ہزاروں اہلکار شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اس فوجی ’تھیم پارک‘ کی افتتاحی تقریب سےحال ہی میں شام کے شہر حلب میں مارے جانے والے پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کے اہل خانہ نے بھی خطاب کیا۔

’چلڈرن اینڈ فیوچر کلچر ہاؤس‘ کے مینجنگ ڈائریکٹر حامد صدگئی سے اس پر ردعمل جاننے کے لیے وائس آف امریکہ نے کوشش کی لیکن اُنھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پر شائع ہونے والی تصاویر میں بچوں کو فوجی مشقیں کرتے ہوئے اور روکاوٹیں عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، بچوں نے پاسدران انقلاب فورس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

حامد صدگئی کے رجا نیوز کو دیئے گئے انٹرویو کے مطابق بچوں نے یہ سیکھا کہ جنگ کی صورت میں مقدس زیارات کو کیسے بچانا ہے، ان تربیتی مشقوں میں دمشق میں مقدس زیارات کی عمارتوں کے ماڈل رکھے گئے تھے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں خاموشی سے والدین سے رابطہ کرنے کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو اس پارک کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نا دیں۔

اُن میں سے ایک سرگرم کارکن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے ہماری کوششیں زیادہ سود مند نہیں اور اگر ہم زیادہ زور دیں گے تو اُس سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکن نے کہا کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں سے کہیں گے کہ وہ ان معاملات کو زیادہ سنجیدگی سے لیں۔

ایران میں انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر نظر رکھنے والے ایک ادارے ’’عبدالرحمن برومند فاؤنڈیشن‘‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رویا برومند نے کہا کہ یہ پارک ’’بچوں کے جذبات کو غلط استعمال سے متعلق بین الاقوامی میثاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘

اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ ’’وہ بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔‘‘

ایرانی حکومت اکثر جنگ سے متعلق واقعات کو وقار اور تعظیم کے ساتھ بیان کرتی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر رواں سال اپریل میں ایک ’’پروپیگنڈا‘‘ ویڈیو جاری کی گئی جس میں نوجوان لوگوں کی شام میں ایرانی فورسز میں شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی۔

اس ویڈیو میں اسلحہ اٹھائے ہوئے بچوں کو اُن افراد کے لیے نغمے گاتے ہوئے دکھایا گیا جو شام میں مقدس زیارات کی حفاظت کرتے ہوئے مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG