رسائی کے لنکس

علاقے میں اثرورسوخ کے لیے ترکی اور ایران کے درمیان مقابلہ

  • گیری تھامس

علاقے میں اثرورسوخ کے لیے ترکی اور ایران کے درمیان مقابلہ

علاقے میں اثرورسوخ کے لیے ترکی اور ایران کے درمیان مقابلہ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران نے خود کو ہمیشہ فلسطینیوں کے مفاد کا چیمپیئن بنا کر پیش کیا ہے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب غزہ کے لیے امداد پہنچنانے والے بحری بیڑے پر اسرائیل کے حملے سے ترکی کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علاقے میں اثر و رسوخ کے لیے ترکی اور ایران کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے ۔

جب ترکی سے سفر شروع کرنے والے بین الاقوامی کارکنوں کے امدادی بحری بیڑے پر اسرائیل کی کمانڈو ٹیم نے حملہ کیا، تو ترکی نے فوری طور پر اسرائیل کی شدید مذمت کی جب کہ ایران کو اپنا رد عمل ظاہر کرنے میں کچھ وقت لگا۔

انٹیلی جنس کی پرائیویٹ فرم اسٹارٹ فار کی تجزیہ کار ریوا بھلاکہتی ہیں کہ ترکی کے سبقت لے جانے پر ایران خوش نہیں ہے۔’’اس معاملے میں ترکی کی جو واہ واہ ہو رہی ہے وہ ایران کو پسند نہیں ہے ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں سے ایران خود کو فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے والے ملک کی حیثیت سے پیش کرتا رہا ہے اور بڑے بڑے عرب ملکوں کی دوغلی پالیسیوں کو بے نقاب کرتا رہا ہے ۔‘‘

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے یہودی مملکت کے وجود کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے اور خود کو فلسطینیوں کے حقوق کا علمبردار بنا کر پیش کیا ہے ۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے سابق انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور نکولس برنز نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے ایران کی حمایت محض زبانی جمع خرچ تک محدود رہی ہے ۔’’جہاں تک میں سمجھا ہوں، ایران کی حکومت فلسطینیوں کے حقوق پر زور دینے کے معاملے مِیں دوغلی پالیسی پر عمل کرتی رہی ہے ۔ایران نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا ۔ لیکن وہ عرب دنیا میں اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے یہ کھیل کھیلتا رہا ہے ۔‘‘

اگرچہ یہ دونوں مسلمان اکثریت والی آبادی والے ملک ہیں، لیکن سیکولر ترکی اور مذہبی ایران ، دونوں نے اسرائیل کے معاملے میں مختلف راہیں اختیار کی ہیں۔ ترکی پہلا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور وہ اسرائیل سے بھاری مقدار میں ہتھیار خریدتا رہا ہے ۔ لیکن ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہونا شروع ہوئے جب ترکی نے 2009 میں غزہ پر اسرائیل کی فوجی کارروائی کی سخت مذمت کی۔

ریوا بھلاکہتی ہیں کہ غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی ختم کرنے کی کوشش سے اسرائیل اور امریکہ دونوں کے لیے معاملات بہت زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ’’اس وقت اسرائیل کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کو یقینی بنایا جائے ۔ اگر وہ اس معاملے میں پیچھے ہٹ گیا، تو پھر ایسے وقت میں جب عرب عوام میں ترکی کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ دوسری طرف وہ جتنا زیادہ سخت موقف اختیار کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ امریکہ کی طرف سے اس کی مخالفت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہیں۔‘‘

لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ علاقے میں ایران اور ترکی کے درمیان اثر و رسوخ کے لیے جو مقابلہ ہو رہا ہے، اس بارے میں شکو ک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ صدام حسین کے زمانے میں، عرب عراق کو ایران کے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن 2003 میں امریکی حملے سے عراق تباہ ہو گیا اور آج کل اندرونی خلفشار کا شکار ہے ۔

نکولس برنز کہتے ہیں کہ ان حالات میں عرب دنیا علاقے میں ایران کے عزائم کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھتی ہے۔’’میرے خیال میں بیشتر عرب ممالک ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے خائف ہیں اور عرب دنیا اور ایران کے درمیان بہت کم اعتماد پایا جاتا ہے ۔ ایرانی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت میں پریس کانفرنس سے یہ صورت حال تبدیل نہیں ہو گی ۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ غزہ کے واقعے سے امریکہ کی یہ کوششیں کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے اس پر اقوام متحدہ کی طرف سے نئی پابندیاں عائد کر دی جائیں، سست پڑ سکتی ہیں۔ غزہ کے واقعے کی وجہ سے سلامتی کونسل کی توجہ پابندیوں کے مسئلے سے ہٹ گئی ہے ۔ ترکی جو آج کل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہے، کبھی بھی پابندیوں کا حامی نہیں رہا۔

محکمۂ خارجہ کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری رچرڈ مرفی کہتے ہیں کہ کسی بھی ایسے اقدام کے لیے جس سے اسرائیل کو فائدہ پہنچنے کا تاثر پیدا ہوتا ہو، حمایت حاصل کرنا مشکل ہو گا۔ ’’ترکی میں آج کل بہت غصے کا موڈ ہے اور اس سے ایران پر پابندیوں کے بارے میں ان کی تنقید اور زیادہ سخت ہو جائے گی۔ غزہ کے واقعے سے پہلے ہی اس کا خیال تھا کہ یہ صحیح طریقہ نہیں ہے اور مجھے یقین ہے کہ غزہ کے واقعے سے ، اس کی رائے تبدیل نہیں ہوگی۔‘‘

ترکی اور برازیل حال ہی میں ایران کے ساتھ اس انتظام پر متفق ہوئے تھے کہ ایران اپنا کچھ کم درجے کا یورینیم افژودگی کے لیے ترکی بھیجے گا ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام ترکی کی اس کوشش کا حصہ ہے کہ اپنا اثرو رسوخ بڑھایا جائے ۔ لیکن امریکہ نے اس انتظام کو ناکافی کہہ کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی کوشش جاری رکھے گا۔

XS
SM
MD
LG