رسائی کے لنکس

منجمد ایرانی رقوم کا رُخ موڑنے کا معاملہ، قانونی اقدام کی دھمکی


فائل

فائل

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ہم اپنی (منجمد) رقوم کو روکے جانے کا ذمہ دار امریکی حکومت کو سمجھتے ہیں۔ اگر ہمارے فنڈز تک غیر قانونی رسائی دی جاتی ہے، تو ہم مناسب وقت پر امریکی حکومت پر ہرجانے کا دعویٰ کریں گے‘‘

ایران نے دھمکی دی ہے کہ دو ارب ڈالر کی منجمد رقوم کا رُخ موڑنے کی صورت میں، وہ امریکہ کے خلاف قانونی اقدام کرے گا جسے ایران کی سرپرستی میں کی گئی دہشت گردی کے بہانے امریکی اہل خانہ کو جرمانے کے طور پر دینے کی بات کی جارہی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ’’ہم اپنی (منجمد) رقوم کو روکنے کا ذمہ دار امریکی حکومت کو سمجھتے ہیں۔ اگر ہمارے فنڈز تک غیر قانونی رسائی دی جاتی ہے، تو ہم مناسب وقت پر امریکی حکومت پر ہرجانے کا دعویٰ کریں گے‘‘۔

گذشتہ ہفتے امریکی عدالتِ عظمیٰ نے اپنا فیصلہ سنہ 2012کے قانون کے حق میں سنایا ہے، جس کا تعلق اِن فنڈز کی تقسیم سے ہے۔

یہ عدالتی فیصلہ 1300 سے زائد ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعلق رکھتا ہے، جن میں سے کچھ پچھلے 30 سال سے زائد عرصے سےمعاوضے کے لیے مقدمہ لڑ رہے تھے۔
پیٹرک کلاسن کا تعلق ’واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فور نیئر ایسٹ پالیسی‘ سے ہے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی فارسی سروس کو بتایا کہ عدالت کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوائد و ضوابط کے عین مطابق ہے۔

اُن کے بقول، ’’درحقیقت، امریکی قانون بین الاقوامی روایت کے مطابق ہے۔ عدالتیں اُس معاملے میں بھی ملوث ہونے لگی ہیں جن کے لیےکبھی خیال کیا جاتا تھا کہ یہ سیاسی طور پر ممنوعہ علاقہ ہیں۔ عالمی طور پر ایسا نہیں ہوتا، لیکن امریکی قانون منفرد نہیں ہے‘‘۔

فیصلے میں سنہ 1983میں بیروت کے دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے 241 میرینز اور سنہ 1996 میں سعودی عرب میں خوبر ٹاورز ٹرک بم حملے میں 19 امریکی فوجی اہل کاروں کی ہلاکت اور دیگر حملوں میں ہلاک شدگان کے رشتہ داروں کو معاوضہ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

ایران نے، جو حزب اللہ کے شدت پسند گروہ سے واسطہ رکھتا ہے، اِن حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت میں ہونے والے خونریر واقعات سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG