رسائی کے لنکس

سفیر کو ویزے سے انکار 'خطرناک مثال' ہے: ایران


حامد ابو طالبی، ایرانی سفارت کار (فائل فوٹو)

حامد ابو طالبی، ایرانی سفارت کار (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کی میزبان ملک کے ساتھ تعلقات پر قائم کمیٹی سے ایران چاہتا ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری حل کرے۔

ایران نے اقوام متحدہ کی ایک خصوصی نشست کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے جس میں تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس کے بین الاقوامی ادارے کے لیے نامزد سفیر کو ویزہ نا دینے کے معاملے پر بحث کی جائے۔

امریکی عہدیداروں کی طرف سے اقوام متحدہ کے لیے ایران کی جانب سے حامد ابو طالبی کی تقرری پر اعتراضات کیا جاتا رہا ہے کیونکہ ان کے بقول 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے میں ابوطالبی مبینہ طور پر ملوث تھے۔

گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کی ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ یہ انتخاب ’’قابل عمل نہیں‘‘۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایک خط میں کہا کہ یہ فیصلہ سفارت کاری پر ’’منفی اثرات‘‘ مرتب کرتے ہوئے خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رکن ریاست کو ویزے سے انکار خود ادارے کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

اقوام متحدہ کی میزبان ملک کے ساتھ تعلقات پر قائم کمیٹی سے ایران چاہتا ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری حل کرے۔

قبرص اس کمیٹی کی سربراہی کر رہا ہے اور خبر رساں ایجنسی رائیٹرز نے اقوام متحدہ میں اس کے سفیر نیکولس ایمیلیو کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔

تہران یہ کہہ چکا ہے کہ ابو طالبی کی جگہ وہ کسی نئے سفیر کی نامزدگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ابوطالبی ان طلبہ کے گروہ میں شامل تھے جنہوں نے 52 امریکی سفارت کاروں کو 444 روز کے لیے یرغمال بنائے رکھا لیکن ان کا کہنا ہے اس کارروائی میں ان کا کردار صرف ترجمے اور مذاکرات تک محدود تھا۔

اس کارروائی کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG