رسائی کے لنکس

ایران محاذ آرائی میں پہل نہیں کرے گا: امریکہ


ایران محاذ آرائی میں پہل نہیں کرے گا: امریکہ

ایران محاذ آرائی میں پہل نہیں کرے گا: امریکہ

یہ بات امریکہ کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رونالڈ برجیس نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے روبرو بیانِ حلفی دیتے ہوئے کہی

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کی جانب سے جان بوجھ کر کسی محاذ آرائی کے آغاز کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جوہری سرگرمیوں کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا تو تہران حکومت اس کا جواب دے گی۔

یہ بات امریکہ کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رونالڈ برجیس نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے روبرو بیانِ حلفی دیتے ہوئے کہی۔

امریکی جنرل نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے سمیت کئی جوابی کاروائیاں کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز کی عارضی یا مستقل بندش اور خطے میں موجود امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں پر میزائل حملے ایران کے جوابی اقدامات ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران حملے کے جواب میں دنیا بھر میں دہشت گردوں کو بھی استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم، امریکی دفاعی اہلکار نےاس امکان کو رد کیا کہ جوہری پروگرام پہ جاری تنازع میں ایران جان بوجھ کر کسی محاذ آرائی کا آغاز کرے گا۔

جنرل برجیس اور امریکہ کے 'نیشنل انٹیلی جنس' کے سربراہ جیمز کلیپر، دونوں نے سماعت کے دوران اراکینِ سینیٹ کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک ایران پر حملے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مغربی ممالک کو یقین ہے کہ ایران اپنے سول جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، ایرانی حکام اس الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اسرائیلی رہنما خبردار کرتےرہےہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنا لازمی ہے۔

جمعرات کو بھی جاپان کےدورے پر موجود اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود براک نے ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

XS
SM
MD
LG