رسائی کے لنکس

رضائیاں کے خلاف یہ کارروائی تہران میں انقلابی عدالت خفیہ اطلاعات اکٹھی کرنے، اطلاعات دشمن ملکوں کی حکومتوں کے حوالے کرنے، امریکی صدر براک اوباما کو خط تحریر کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف کام کے الزامات پر چلا رہی ہے۔ رضائیاں نےان الزامات کی تردید کی ہے

ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جاسوسی کے الزام میں ’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ کے زیر حراست نامہ نگار، جیسن رضائیاں کےمقدمے کی بند کمرےمیں تیسری سماعت پیر کے روز تہران میں دوبارہ شروع ہوئی۔

مقدمے کی پہلی اور دوسری سماعت کی کارروائی مئی اور جون میں ہوئی تھی۔

انتالیس برس کے رضائیاں کے خلاف یہ کارروائی تہران میں انقلابی عدالت خفیہ اطلاعات اکٹھی کرنے، اطلاعات دشمن ملکوں کی حکومتوں کے حوالے کرنے، امریکی صدر براک اوباما کو خط تحریر کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف کام کے الزامات پر چلا رہی ہے۔ رضائیاں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

رضائیاں اور اُن کی ایرانی بیوی، یگانے صالحی، جو خود بھی ایک صحافی ہیں، اُنھیں جولائی 2014ء میں ایرانی سکیورٹی اہل کاروں نے چھاپہ مار کر تہران میں اُنھیں گرفتار کیا۔ صالحی کو رہا کر دیا گیا تھا، جنھیں ایک علیحدہ مقدمے کا سامنا ہے۔ تاہم، امریکی اور ایرانی شہریت رکھنے والے رضائیاں تقریباً ایک برس سے قید ہیں۔
اُن کی پہلی سماعت کے دوران، ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ عدالت نے رضائیاں کا وہ خط پڑھ کر سنایا جو اُنھوں نے مبینہ طور پر مسٹر اوباما کی عبوری ٹیم کو سنہ 2008 میں تحریر کیا تھا، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں میں مدد دینے کی پیش کش کی گئی تھی۔

مارٹن بیرون ’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ کے انتظامی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سنہ 2008 کے انتخابات کے بعد رضائیاں نے اوباما انتظامیہ کو ایک درخواست بھیجی تھی، لیکن اُن کی خدمات حاصل نہیں کی گئیں۔

رضائیاں امریکہ میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے اور زندگی کا زیادہ تر حصہ یہیں گزارا۔ایران اپنے شہریوں کی دیگر ملکوں کی شہریت کو تسلیم نہیں کرتا۔
امریکہ نے رضائیاں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ سماعت ایسے وقت ہورہی ہے جب ایران اور چھ عالمی طاقتیں، جن میں امریکہ شامل ہے، ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی تاریخ کے اندر ایک مربوط سمجھوتا طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ اُس کا پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG