رسائی کے لنکس

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں


ایران کا میزائل تجربہ۔ فائل فوٹو

امریکہ نے جمعے کے روز ایران کے 13 افراد اور 12 اداروں اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ نئی پابندیاں ایران پر پابندیوں کے اختیارات کے تحت لگائی گئی ہیں۔

ایک روز پہلے وہائٹ ہاؤس نے تہران کو بیلسٹک میزائل کے تجربے اور دوسری سرگرمیوں پر انتباہ جاری کیا تھا۔

وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر جمعے کے رز شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ محکمہ خزانہ نے کچھ افراد اور اداروں پر پابندیاں لگائی ہیں جن میں سے کچھ متحدہ عرب امارات، لبنان اور چین میں ہیں۔

یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایران کے خلاف پہلی کارروائی ہے۔

یہ پابندیاں اسی نوعیت کی ہیں جس طرح سابق صدر أوباما کی انتظامیہ ایران کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کے خلاف عائد کرتی رہی ہے۔

خبررساں ادارے روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی پابندیاں جن شعبوں پر لگائی گئی ہیں ان پر 2015 کے جوہری معاہدے کے باوجود پہلے ہی پابندیاں نافذ ہیں جن میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آج نافذ کی جانے والی پابندیاں ایران کی ان سمندر پار ضرررساں سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق امریکی محکمہ خزانہ کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں جو امریکی محکمہ خارجہ کے جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ یہ مغربی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے کی جانب اشارہ تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز کی پابندیاں، کمپنیوں، افراد اور ایجنٹوں پر لگائی گئی ہیں جو ایران کے ایک کاروباری شخص عبداللہ اصغر زادہ کے تجارتي نیٹ ورک کی مدد کرتے ہیں۔

محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ انہوں نے شاہد حمایت انڈسٹریل گروپ کی مدد کی تھی جس کے متعلق امریکہ کہہ چکا ہے کہ وہ اس ایرانی ادارے کا مددگار ہے جو اس ملک کا بیلسٹک میزائل پروگرام چلاتا ہے۔

تازہ پابندیاں لبنان میں قائم ایک نیٹ ورک پر بھی لگائی گئی ہیں جسے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی چلاتا ہے۔

محمد عبدلامیر فرحت کی ملکیت یا کنڑول میں کام کرنے والی لبنان میں قائم تین کمپنیاں بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کا تعلق تعمیرات اور ادویات سازی سے ہے۔

بیروت میں قائم حسن ابراہیمی کی کمپنی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، جس کا سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدوس فورس سے تعلق ہے اور وہ اس فوجی تنظیم کی بیرون ملک سرگرمیوں میں مدد فراہم کرتی ہے۔

محکمہ خزانہ کے کہا ہے کہ انہوں نے نقدی کی شکل میں لاکھوں ڈالر لبنان کے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کو فراہم کیے۔ اس کمپنی کے دو عہدے داروں کے نام بھی پابندی کی تازہ فہرست میں شامل ہیں جو منی لانڈرنگ اور فنڈز کی ترسيل میں ملوث تھے۔

XS
SM
MD
LG