رسائی کے لنکس

ایران: امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تجویز مسترد


ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی نے کہا کہ امریکہ بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی ایران کو سزا دینے کی دھمکی بھی دیتا ہے۔

ایران کے رہبر اعلٰی نے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت سے کچھ حل نہیں ہو گا۔

آیت اللہ علی خامنائی نے جمعرات کو اپنے ایک بیان کہا کہ امریکہ بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی ایران کو سزا دینے کی دھمکی بھی دیتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایران کومجبور نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے جرمنی کے شہر میونخ میں سلامتی کانفرنس کے دوران ہفتہ کے روز کہا تھا کہ امریکہ ایران سے براہ راست رابطے کے لیے تیار ہے، اگر تہران ان مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر کا یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ کی طرف ایران کی تیل کی صنعت پر تعزیرات لگائی گئی ہیں۔

بعض مغربی ممالک بشمول امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران خفیہ طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کو جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران اور چھ ممالک کے گروپ ’پی فائیو پلس ون‘ جس میں امریکہ، فرانس، روس، چین، برطانیہ اور جرمنی کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا نیا دور رواں ماہ کے اواخر میں قازقستان میں ہونا ہے۔
XS
SM
MD
LG