رسائی کے لنکس

امریکہ نے ایرانی عوام کے لیے ’آن لائن‘ سفارتخانہ کھول دیا


امریکہ نے ایرانی عوام کے لیے ’آن لائن‘ سفارتخانہ کھول دیا

امریکہ نے ایرانی عوام کے لیے ’آن لائن‘ سفارتخانہ کھول دیا

امریکہ اور ایران کے عوام اِس فورم کے ذریعے بلاخوف اور آزادی سےایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ ٴخیال کر سکتے ہیں: ہیلری کلنٹن

امریکہ نے ایرانی عوام کے لیے ’ورچوئل‘ یعنی’آن لائن سفارتخانہ‘ کھولنےکا اعلان کردیا ہے۔ وزیر خارجہ ہیلری نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کےعوام اِس فورم کے ذریعے بلاخوف اور آزادی سےایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ ٴخیال کر سکتے ہیں۔

واشنگٹن میں محکمہٴ خارجہ میں بریفنگ کےدوران ترجمان وکٹوریا نیولینڈ نےایران کے عوام کے لیے آن لائن سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا۔ اُن کےالفاظ میں:’مجھے ورچوئل یو ایس ایمبیسی تہران کے افتتاح کا اعلان کرتے ہوئےخوشی محسوس ہو رہی ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے عوام کے درمیان روابطے کا یہ نیا اورپرجوش ذریعہ ہے۔‘

ترجمان نے کہا: ’چونکہ، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، ہم ایران کے عوام کے ساتھ براہ راست ڈائیلاگ سے محروم ہیں۔ لیکن اس ویب سائٹ کی طرح نئی تکنیک اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس سے استفادہ کرتے ہوئے ہم اس خلا کو پر کرنے اور ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کی امید رکھتے ہیں‘۔

وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے لیے’ورچوئل ایمبیسی ویب سائٹ‘ پر اپنے وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اِس اقدام کا مقصد دو ایسے ملکوں کے عوام کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے، جن کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوئے 30 برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جِس پر ہم ایک دوسرے کے ساتھ بلاخوف آزادانہ انداذ میں خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں: امریکہ، ہماری پالیسیوں، ہماری ثقافت اور امریکی عوام کے بارے میں۔ انہوں نے کہا کہ معومات اور متبادل نظریات کا ایران تک پہنچنا بے حد ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایرانی حکومت اپنے عوام کے لیے معلومات تک رسائی پر کنٹرول کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’ورچوئل ایمبیسی‘ کئی اقدامات کی پہلی کڑی ہے، جِن کا مقصد ایران کی جانب سے سٹلائٹ کو جام کرنے اوراپنے شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں کی چھان پھٹک کرنے سمیت الیکٹرانک نگرانی کو چیلنچ کرنا ہے۔

محکمہٴ خارجہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ’ورچوئل ایمبیسی‘ ایرانی شہریوں کے امریکہ آنے میں حائل مشکلات کو کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ انہیں امریکہ آنے کے لیے ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے اب بھی انقرہ، ابوظہبی اور دبئی میں فارسی زبان میں کام کرنے والے امریکی ویزاسیکشن ہی آنا پڑے گا۔ البتہ، درخواست سے متعلق زیادہ تر کاغذی کارروائی وہ انٹرنیٹ پرہی انجام دے سکیں گے۔ ویب سائٹ پرایسےامریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے خواہشمند طلبا کےلیے وڈیوکے ذریعے راہنمائی موجود ہےجو خود چاہتے ہیں کہ ایرانی طلبا کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اس وقت لگ بھگ 5 ہزار ایرانی طلبا امریکہ میں زیرتعلیم ہیں۔

اِس کے علاوہ، ’ورچوئل ایمبیسی‘ کی ویب سائٹ پر ایران کے بارے میں امریکی پالیسی اور بقول امریکی عہدیداروں کے ’غالب مفروضوں‘ بشمول یہ کہ امریکہ ایران کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے، امریکہ ایران کے پرامن جوہری توانائی کےحصول کے خلاف ہے، یا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کے شہریوں کو سزا دینا ہے، جیسے امور پر بھی بیانات موجود ہیں۔

ویب سائٹ پر ایرانی شہریوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ’ٹوئٹر‘ اور ’فیس بک‘ پر امریکی محکمہٴ خارجہ کے پیج پر اپنی آرا یا تنقید کا اظہار کریں۔

وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے اس غیرمعمولی انٹرنیٹ پروجیکٹ کا اعلان گزشتہ نومبر میں ’ وائس آف امریکہ‘ کی فارسی سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا تھا، جِس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاری جانی نے محتاط انداز میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ، اِس منصوبے کا مقدر ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’مڈل ایسٹ انسٹیوٹ‘ سے وابستہ تجزیہ کار زبیراقبال نے ’اردو سروس‘ سے گفتگو میں اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ورچوئل سفارتخانہ کھل رہا ہے توامید رکھی جا سکتی ہے کہ کل دونوں ایسے مقام پر پہنچ جائیں جہاں امریکہ اور ایران براہ راست بات چیت کررہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس چینل کا کھلنا وسیع تر معنوں میں ایک اچھی پیش رفت ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایران اس ویب سائٹ پر پابندی نہ لگائے۔ لیکن اس بات کا احتمال ضروررہے گا کہ ایران اس اقدام کو مداخلت خیال کرے اور اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے والوں کو کسی طرح کا نقصان بھی پہنچے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ البتہ تہران میں سوئٹزرلینڈ اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ دونوں اطراف کے متعلقہ امورانجام دیتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1980کے بعد سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں جب عسکریت پسندوں کی حمایت والے ایرانی انقلاب کے دوران تہران میں امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا گیا تھا اور 50 سے زیادہ امریکی شہریوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے کے لیے یرغمال بنائے رکھا گیا تھا۔

نئے امریکی ’ورچوئل سفارتخانے‘ کی انگریزی زبان میں ویب ایڈریس ہے:

iran.usembassy.gov

جبکہ، فارسی زبان میں اس ویب سائٹ کو دیکھنے کےلیے ایڈریس ہے:

Persian.iran.usembassy.gov

XS
SM
MD
LG