رسائی کے لنکس

جوہری مذاکرات کا نتیجہ جلد نکلنا چاہیے، ایرانی صدر


ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مزاج میں آنے والی حالیہ تبدیلی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے جوہری مذاکرات کے نتائج جلد برآمد ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

جمعے کو نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مزاج میں آنے والی حالیہ تبدیلی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

صدر روحانی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک میں موجود ہیں جہاں گزشتہ روز امریکہ اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے۔ سنہ 1979 میں آنے والے انقلابِ ایران کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلا براہِ راست اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

صدر روحانی کا کہنا تھا کہ امریکہ - ایران تعلقات کا ماحول اس وقت ماضی سے خاصا مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مقصد دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مسائل حل کرنا اور دونوں حکومتوں اور اقوام کے درمیان مرحلہ وار اعتماد کو فروغ دینا ہے۔

گزشتہ ماہ صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد صدر روحانی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ بھی ہے ۔ امریکہ میں اپنے چھ روزہ قیام کے دوران میں ایرانی صدر کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں جب کہ ایران اور جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے 'آئی اے ای اے' کے حکام کے درمیان جمعے کو نیویارک میں مذاکرات کا ایک نیا دور بھی ہوا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکہ اوردیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری تنازع پر ہونے والے حالیہ مذاکرات کے جلد ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان - امریکہ، روس، برطانیہ ، فرانس، چین - اور جرمنی پر مشتمل گروپ 'پی 5+1' کے نمائندوں کے درمیان 15 اور 16 اکتوبر کو جنیوا میں مذاکرات کا اگلا دور ہوگا جس میں ان کا ملک جوہری تنازع کے حل کا منصوبہ پیش کرے گا۔

صدر روحانی نے کہا کہ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ نہیں چھپا رہا اور وہ ایٹم بم نہیں بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ہونے والے مذاکرات میں ان کا ملک عالمی طاقتوں کو اس بارے میں مزید یقین دہانیاں بھی کرائے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت کو جوہری تنازع کے حل کا مکمل مینڈیٹ حاصل ہے اور انہوں نے اس مسئلے کا جو بھی حل نکالا، اسے ایران کے دیگر 'مراکزِ قوت' بھی تسلیم کریں گے۔
XS
SM
MD
LG