رسائی کے لنکس

ایران افژودگی کا عمل نہیں روکے گا: صدر روحانی


صدر حسن روحانی

صدر حسن روحانی

ایرانی صدر نے عبوری معاہدے میں شامل، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے ساتھ مل کر جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کو اعلان کیا کہ یورینیم کی افژودگی نہیں روکی جائے گی لیکن ساتھ ہی انھوں نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ’’تعمیری رابطے‘‘ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

ایران کے ٹیلی ویژن ’آئی آر بی آئی‘ سے ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنے ملک اس موقف کو برقرار رکھا کہ افژودگی ایران کا حق ہے اور اسے کبھی ختم نہیں کیا جائے گا۔

’’ میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ عوام کی طرف سے وضع کردہ اصول، عوام کو حاصل حقوق، رہبر اعلیٰ کی طرف سے متعین کردہ لائحہ عمل یہ سب مذاکرات کے اختتام تک قابل عمل رہیں گے۔ مطلب یہ کہ ملک میں ہمارے جوہری حق پر مزید قوت اور شفافیت سے عمل درآمد جاری رہے گا۔ حتیٰ کہ افژودگی کا حق جو کہ جوہری حقوق کا حصہ ہے وہ بھی جاری رہے گا۔ یہ آج بھی جاری ہے، کل بھی رہے گا اور افژودگی کا عمل نہیں رکے گا۔ یہ ہماری آخری حد ہے۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ایران نے اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کے بعض حصے محدود کرے گا اور اس کے بدلے اس پر عائد بعض بین الاقوامی تعزیرات میں نرمی کی جائے گی۔

معاہدے کے تحت ایران یورینیم کو صرف پانچ فیصد تک افژودہ کر سکے گا جو کہ صرف توانائی کی پیداوار کے لیے ضروری ہوتی ہے جب کہ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت کو ایران 20 فیصد افژودہ یورینیم کے ذخائر کو بھی ختم کرنا ہے۔ اس سطح کی افژودگی طبی تحقیق کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن اس میں معمول سا اضافہ کر کے اس سے جوہری ہتھیار بھی بنایا جاسکتا ہے۔

صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کا مقصد سلامتی کونسل اور دیگر ممالک کی طرف سے انفرادی طور پر عائد کی گئی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ یہ ممالک اس خدشے کے پیش نظر کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ایران یورینیم کی افژودگی روک دے۔ تہران یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایرانی صدر نے عبوری معاہدے میں شامل، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے ساتھ مل کر جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

طرفین کا کہنا ہے کہ طویل المدت حل میں ’’عملی حدود‘‘ اور ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کی یقین دہانی کی شفافیت اور ایران کے خلاف تعزیرات کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG