رسائی کے لنکس

ایران: سکینہ اشتیانی کو جلد سنگسار کرنے کا خدشہ


لندن میں ایک بچہ ایک مظاہرے کے دوران سکینہ کی جاں بخشی کے لیے ایک پٹیشن پر دستخط کررہا ہے۔

لندن میں ایک بچہ ایک مظاہرے کے دوران سکینہ کی جاں بخشی کے لیے ایک پٹیشن پر دستخط کررہا ہے۔

ایرانی جوڈیشل حکام نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ انہوں نے ابھی تک خاتون کے مقدر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم اس کی موت کی سزا برقرار ہے اور اس سزا پر عمل درآمد کسی دوسرے طریقے مثلاً پھانسی کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی اس بیوہ خاتون کے، جسے سنگسار کرنے کی سزا سنائی جاچکی ہے، رشتے داروں اور دوستوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حکام اس کی سزا پر جلد عمل درآمد کرسکتے ہیں۔

سکینہ محمدی اشتیانی کے بیٹے اور اس کے وکلاء میں سے ایک نے پیر کے روز کہا کہ رمضان المبارک کی وجہ سے موت کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کیا گیا تھا اور یہ مہینہ اس ہفتے ختم ہوجائے گا۔

ایسوشی ایٹڈ پریس نے ایک وکیل جاوید ہوتن کیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سزا پر کسی بھی وقت عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فرٹینی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے اٹلی کے سفیر کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اٹلی کے میڈیا نے فرٹینی کے حوالے سے کہاہے کہ ان کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے رحم کی درخواست کی منظوری ہی اشتیانی کی جان بچا سکتی ہے۔

فرانس بھی اشتیانی کی جان بخشی پر زور دے چکاہے۔

اتوار کے روز ویٹیکن نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ اس کی جان بچانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرے گا۔

ایرانی بیوہ اشتیانی کو سنگسار ی کے ذریعے موت کی سزا کے خلاف دنیا بھر سے نکتہ چینی کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی جوڈیشل حکام نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ انہوں نے ابھی تک خاتون کے مقدر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم اس کی موت کی سزا برقرار ہے اور اس سزا پر عمل درآمد کسی دوسرے طریقے مثلاً پھانسی کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے۔

43 سالہ خاتون نے مئی 2006 میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے خاوند کی موت کے بعد اس نے دو مردوں سے ناجائز تعلقات قائم کیے تھے، جس پر اسے 99 کوڑوں کی سزا دی گئی تھی۔ یہ سزا ملنے کے چار ماہ بعد ایک اور عدالت نے ان دوآدمیوں میں سے ایک پر اس کے خاوند کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ اشتیانی ایک شادی شدہ خاتون ہوتے ہوئے بدکاری کرنے میں ملوث تھی، اسے سنگسار کرنے کی سزا سنائی۔ اشتیانی اس الزام سے انکار کرتی ہے۔

اس مہینے کے شروع میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا تھا کہ اشتیانی نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اپنے خاوند کےقتل میں شریک تھی اور اس کے ناجائز تعلقات بھی تھے۔ بعدازاں اشتیانی نے اپنا بیان تبدیل کرلیا تھا۔ جس کے بارے میں اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس نے وہ بیان دباؤ کے تحت دیاتھا۔

XS
SM
MD
LG