رسائی کے لنکس

ممکن ہے کہ ایران جوہری بم پر کام کررہا ہو: اقوامِ متحدہ


ممکن ہے کہ ایران جوہری بم پر کام کررہا ہو: اقوامِ متحدہ

ممکن ہے کہ ایران جوہری بم پر کام کررہا ہو: اقوامِ متحدہ

آئى اے ای اے نے ایران کے اس حالیہ دعوے کی بھی تصدیق کردی ہے کہ اُس نے یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی نے پہلی بار کہا ہے کہ اُسے اس بارے میں تشویش ہے کہ ہوسکتا ہے ایران جوہری ہتھیار پر کام کررہا ہو۔

ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی یا آئى اے ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں نئى اطلاعات سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ وہ ہوسکتا ہے کہ کسی میزائل کے لیے کوئى جوہری ہتھیار تیار کررہا ہو۔

آئى اے ای اے نے ایران کے اس حالیہ دعوے کی بھی تصدیق کردی ہے کہ اُس نے یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے۔

عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران افزودہ کرنے کے اسی طریقہ کار کویورینیم کو اُس حد تک صاف کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے، جو اسلحہ سازی کے لیے ضروری ہے۔

یہ رپورٹ ایجنسی کے سربراہ یحیحیٰ امانو نے آئى اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے لیے لکھی ہے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

اس وقت امریکہ ایران کے خالاف نئى پابندیاں عائد کرنے کی ایک ایسی کوشش کی قیادت کررہا ہے، جس کا مقصد ایران کو مجبور کرنا ہے کہ وہ جوہری ایندھن کی فراہمی کے لیے اُس منصوبے کو قبول کرلے، جسے اقوامِ متحدہ کی تائید حاصل ہے۔ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ ایران ، یورینیم کو مزید افزودہ کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کو بھیجے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ آئى اے ای اے کی رپورٹ وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کے اُن بیانات سے مطابقت رکھتی ہے جو انہوں نے اس ہفتے اپنے خلیج کے دورے میں دیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG