رسائی کے لنکس

چھ عالمی طاقتوں کا گروپ یہ چاہتا ہے کہ نئے معاہدے میں ایران یہ یقین دہانی کروائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے گروپ کے مذاکرات کار ویانا میں منگل کو ملاقات کر رہے ہیں جس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق طویل المدت معاہدے کو یقینی بنانا ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان نومبر میں ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا جس میں ایران کی حساس جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، اس کے عوض تہران کے خلاف عائد تعزیرات میں کچھ نرمی کی جانا تھی۔

ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ ٹیکنالوجی توانائی کے حصول و طبی تحقیقات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن بعض ممالک کو خدشہ ہے ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور روس کے علاوہ جرمنی پر مشتمل چھ عالمی طاقتوں کا گروپ یہ چاہتا ہے کہ نئے معاہدے میں ایران یہ یقین دہانی کروائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

اس کے بدلے میں ایران چاہتا ہے کہ اس کے خلاف عائد تمام تعزیرات کو ختم کیا جائے۔ پابندیوں کے باعث تہران کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ویانا میں مذاکرات سے قبل ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے پیر کی شب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ملاقات کی تھی۔ کیتھرین بات چیت میں چھ عالمی طاقتوں کی نمائندگی کر رہی ہیں

پیر کو ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ بات چیت کا یہ عمل ’’کسی جانب نہیں بڑھے‘‘ گا لیکن اُنھوں نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
XS
SM
MD
LG