رسائی کے لنکس

مغوی ایرانی سفارت کار کی بازیابی کی تصدیق


مغوی ایرانی سفارت کار کی بازیابی کی تصدیق

مغوی ایرانی سفارت کار کی بازیابی کی تصدیق

ایرانی سفیر ماشااللہ شاکری نے منگل کے روز اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اُن کے سفارت کار کی بازیابی کا سہرا صرف اور صرف ایران کی انٹیلی جنس فورسز کے سر ہے اور اس اغواء میں انتہاپسند ملوث تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ سفارت حشمت اللہ اطہر زادے کو ایران سے باہر کارروائی کرکے بازیاب کرایا گیا ہے لیکن بار بار پوچھنے کے باوجود اُنھوں نے کسی ملک کا نام لینے سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ ”فی الحال وہ کسی ملک کا نام نہیں بتا سکتے“۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس کارروائی میں طالبان کا ہاتھ تھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ”یہ آپ کہہ رہے ہیں میں نہیں“۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ اُن کے سفارت کو پشاور سے اغواء کیا گیا تھااس لیے اُنھیں بازیاب کرانے کی ذمہ داری پاکستان کی تھی۔

منگل کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایرانی سفارت کار کی بازیابی کی خبر نشر کی ہے۔ ٹی وی کے مطابق ایرانی سکیورٹی اہلکاروں نے سرحد پار ایک پیچیدہ آپریشن کرکے مغوی سفارتکار کو آزاد کروایا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ انھیں کہاں سے اور کب بازیاب کرایا گیا۔

دریں اثناء اس سے قبل پشاور میں مقیم ایرانی سفارت کاروں نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ نومبر 2008 ء کو حیات آباد کے رہائشی علاقے سے اغواء ہونے والے ایران کے کلچرل اتاشی حشمت اللہ اطہر زادہ کو بازیاب کر ا لیا گیا ہے۔ تاہم اُُنھوں نے بھی یہ بتانے سے گریز کیا تھا کہ اطہرزادہ کو کب ،کہاں اور کیسے اغواء کاروں کے چنگل سے رہائی ملی۔

خیال رہے کہ افغانستان کے نامزد سفیر حاجی عبدالخالق فراحی کو بھی حیات آباد سے ہی 22 ستمبر 2008 ء کو اغواء کر لیا گیا تھا اور اس کارروائی میں اغوا کاروں نے ان کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

افغان سفارت کار تا حال لاپتہ ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر انوار الحق ہادی کے بھائی ضیا الحق کو بھی پشاور سے اغو ا ء کر لیا گیا تھا اور اُنھیں بھی اغوا ء کارروں نے ابھی تک رہا نہیں کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG