رسائی کے لنکس

ایرانی جوہری پروگرام: پابندیاں کس حد تک مؤثر؟

  • کوکب فرشوری

ایران کے صدرمحمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اگر کچھ شرائط پوری کی جائیں تو ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے یہ بات ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ان شرائط کا جلد اعلان کرے گا اور عالمی طاقتوں کو تہران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے لگائے جانے والی پابندیوں کے ضمن میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

گذشتہ ہفتے، اقوام ِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں۔کیا یہ پابندیاں ہی ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر پیش رفت سے روکنے کا واحد ذریعہ ہیں ؟

ایران اور امریکہ کے تعلقات تو 1979ء سے منقطع ہیں ، لیکن سابق صدر بش کے دور صدرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور دہشت گرد گروپس کے لیے اس کی مبینہ سرپرستی کے باعث ایران کے لیے امریکی خارجہ پالیسی میں مبصرین کے مطابق بہت زیادہ سخت رویہ دیکھنے میں آیا۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام پر اعتراضات اٹھائے اور اس پر پابندیاں عائد کیں۔ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پرپابندیوں کے چوتھے دور کے لیے جو قرار داد منظور کی گئی ، اس کا مقصد بھی ایران کو نیوکلیئر سرگرمیوں سے باز رکھنا اوراسے مذاکرات کی میزپر واپس لانا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ضروری ہیں۔

رائس کہتی ہیں کہ گذشتہ ستمبر میں ایران نے خفیہ طورپر قم کے مقام پر یورینیم کی افزودگی کا ایک اور مرکز قائم کرلیا جو سیکیورٹی کونسل کے حکم کی کھلی خلاف ورزی تھی اور نومبر میں اس نے اعلان کیا کہ وہ ایسے مزید 10 مراکز قائم کرے گا۔ اس طرح کے اقدامات سے ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ رہاہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے، جب کہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ نیوکلیئر پروگرام کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا چاہتاہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ پابندیوں پر کی جانے والی ووٹنگ کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر محمد خازائی نے کہا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود ایران کو اس کے جائز حق کے حصول سے روکا نہیں جاسکتا۔

ایران کے اس موقف کے برعکس یہاں امریکی ایوان نمائندگاں اور سینیٹ میں موجود بہت سے اراکین یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خلاف مزید سخت پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے۔

لیکن پاکستان اور ایران کے امور کے ماہر ڈاکٹر نثار چوہدری کا کہنا ہے کہ پابندیاں لگانا ہرگز مؤثر حکمت عملی نہیں ہے اور پابندیوں کی بجائے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے اس پر بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں لیکن اس کا راستہ نہیں روکا جاسکا اور وہ جوہری دھماکے کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس معاملے کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ پابندیاں اتنی سخت نہیں ہیں جن کے ذریعے ایران کو اس کی سرگرمیوں سے باز رکھا جاسکے۔

ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دستخطوں کے بارے میں ڈاکٹر نثار چوہدری کا کہناتھا کہ پاکستان نے توانائی کی ضروریات کوپورا کرنے کے لیے ا س معاہدے پر دستخط کرکے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔

XS
SM
MD
LG