رسائی کے لنکس

ایرانی پارلیمنٹ نے جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری دے دی


تہران میں سخت گیر موقف رکھنے والے دو سال تک جاری رہنے والی اس سفارتکاری کی مخالفت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جوہری معاہدہ ہوا۔

ایران کی پارلیمنٹ نے اس ابتدائی مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے جو حکومت کو عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے تاریخی جوہری معاہدے پر عملدرآمد کی اجازت دے گا۔

اس مسودے کے مطابق حکومت اس بات کی مجاز ہو گی کہ اگر دوسرا فریق ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے میں ناکام ہوتا ہے تو وہ معاہدے کا نفاذ روک سکتی ہے۔ اس مسودے کی حتمی منظور اختتام ہفتہ تک متوقع ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق پارلیمنٹ میں اس موقع پر سخت گرما گرمی اور الزام تراشی دیکھنے میں آئی اور اعلیٰ مصالحت کار نے ایک قانون ساز پر الزام عائد کیا کہ اس نے انھیں جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی اور دیگر عہدیداروں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے "ہتھیار ڈال دیے"۔

تہران میں سخت گیر موقف رکھنے والے دو سال تک جاری رہنے والی اس سفارتکاری کی مخالفت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جوہری معاہدہ ہوا۔

ایران کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے جوہری پروگرام کا تحفظ کرے گا اور بین الاقوامی اقتصادی پابندی بھی اس سے ختم ہو سکیں گے۔

رواں سال ہی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی کے ساتھ ایران نے طویل مشاورت کے بعد اس معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت اسے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض تعزیرات سے چھٹکارا مل سکے گا۔

XS
SM
MD
LG