رسائی کے لنکس

جوہری تنازع بات چیت سے ہی حل ہوگا، ایرانی صدر


فائل

فائل

ایرانی صدر نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ان کے ملک کا جوہری پروگرام سراسر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس بارے میں ایران نے دنیا سے کبھی جھوٹ بولا ہے اور نہ بولے گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر جاری تنازع کو مغربی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔

پیر کو تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحانی نے کہا کہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حصول ایران کا مقصد رہا ہے جس کی جانب مستقبل میں بھی پیش رفت جاری رہے گی۔

لیکن، ان کے بقول، ساتھ ہی ساتھ ایران مذاکرات کے ذریعے تنازع کا ایک ایسا حل چاہتا ہے جو تمام فریقین کے مفاد میں ہو۔

ایرانی صدر نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ان کے ملک کا جوہری پروگرام سراسر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس بارے میں ایران نے دنیا سے کبھی جھوٹ بولا ہے اور نہ بولے گا۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے 'ارنا' کے مطابق صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اگر خدا نےچاہا تو تمام تر مشکلات کے باوجود ایران اور 'پی5+1' کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک ایسے سمجھوتے پر اتفاق ہوجائے گا جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔

ایران اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان – امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس – اور جرمنی پر مشتمل گروپ کے درمیان ویانا میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے۔

ایرانی اور امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مذاکراتی عمل سست رفتاری اور پیچیدگیوں کا شکار ہے جس کے باعث ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ فریقین 20 جولائی کی ڈیڈلائن سے قبل کسی معاہدے پر متفق نہیں ہوپائیں گے۔

گزشتہ سال نومبر میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت فریقین نے ایرانی جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے 20 جولائی کی ڈیڈلائن مقرر کر رکھی ہے۔

عبوری معاہدے کے تحت ایران یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی معطل کرچکا ہے جس کے جواب میں امریکہ نے اس پر عائد بعض پابندیاں نرم کردی ہیں۔

لیکن مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے کے باوجود فریقین نے آئندہ ماہ بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

تہران حکومت اور مغربی ممالک کے مابین جوہری پروگرام پر کوئی بھی سمجھوتہ ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی منظوری سے مشروط ہوگا جو اب تک جوہری تنازع پر صدر روحانی کے موقف کی حمایت کرتے آئے ہیں۔

خامنہ ای کو ایران میں لامحدود اختیارات حاصل ہیں اور اہم پالیسی امور میں ان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔
XS
SM
MD
LG