رسائی کے لنکس

2013ء میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد یہ حسن روحانی کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے تجارت بڑھانے کے لیے دو نئے سرحدی راستے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی دو روزہ سرکاری دورے پر جمعہ کو پاکستان پہنچے جہاں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر وزیراعظم نواز شریف نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ مہمان صدر کا خود استقبال کیا۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد وفود کی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد تجارت بڑھانے سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق مفاہمت کی کئی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے تجارت بڑھانے کے لیے دو نئے سرحدی راستے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔

2013ء میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد یہ حسن روحانی کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق چھ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے بعد ایرانی صدر کے اس دورے کو خاصا اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے بعد ایران پر عائد تعزیرات ختم ہونے سے اب دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے بہت امکانات ہیں۔

ایرانی صدر کے ہمراہ پاکستان آنے والے وفد میں ایران چیمبر آف کامرس کے سربراہ سمیت ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وفد بھی پاکستان آیا ہے۔

پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل نے جمعہ کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔

’’صدر روحانی پاکستان آئے ہیں اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایران پاکستان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔۔۔ ہم بھی ایران کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔‘‘

دونوں جانب کے عہدیدار آنے والے مہینوں اور سالوں میں دوطرفہ تجارت میں تیزی سے اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اس وقت تجارت کا حجم 25 کروڑ ڈالر ہے لیکن دونوں ہی ملک آئندہ پانچ سالوں میں باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر بات چیت کے علاوہ توقع ہے کہ ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کی جلد تکمیل پر بھی غور کیا جائے گا۔

اربوں ڈالر مالیت کے اس مجوزہ منصوبے کے تحت ایران کے جنوب میں پارس گیس فیلڈ کے ذخائر سے پاکستان کو قدرتی گیس برآمد کی جانی ہے لیکن ایران پر عالمی تعزیرات کے باعث اس منصوبے پر ماضی میں پیش رفت نا ہو سکی۔

ایران نے اپنی سرحد تک پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیا ہے تاہم پاکستان کی جانب ابھی یہ کام ہونا باقی ہے۔

ایران کے صدر کے اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی معاملات بشمول افغانستان کے مصالحتی عمل پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

بعض مبصرین سعودی عرب اور ایران سے پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں بھی حسن روحانی کے دورے کو اہم تصور کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں تاہم پاکستان کے ان دونوں ملکوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ رواں سال وزیراعظم نواز شریف نے ریاض اور تہران کا دورہ بھی کیا جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں کمی لانے کی کوشش تھی۔

XS
SM
MD
LG