رسائی کے لنکس

صحت، داخلہ اور دفاع کی وزارتوں کی طرف سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ہلاکتوں کی کُل تعداد 15538 ہوگئی ہے، جب کہ سنہ 2007 میں کُل 17956 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب سنی شیعہ فرقہ وارانہ جھگڑے شدت اختیار کر گئے تھے

عراقی حکومت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گذشتہ سال ملک میں شدت پسندی کے نتیجے میں 15000 سے زائد سولینز اور سکیورٹی اہل کار ہلاک ہوئے، جو سنہ 2007 کے بعد مہلک ترین سال ثابت ہوا۔

صحت، داخلہ اور دفاع کی وزارتوں کی طرف سے مرتب کے گئے اعداد کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد 15538 ہوگئی، جب کہ سنہ 2007 میں 17956 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب سنی شیعہ فرقہ وارانہ لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی۔

سنہ 2013میں، ہلاکتوں کی کُل تعداد 6522 تھی، جب کہ سنہ 2014میں یہ تعداد بڑھ کر دوگنا ہوگئی۔

برطانیہ میں قائم، ایک غیروابستہ گروپ، ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ جو عراق میں ہونے والی شدت پسندی کے واقعات اکٹھے کرتا ہے، بتایا ہے کہ سنہ 2014میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ تھی، جب 17073 سویلینز ہلاک ہوئے۔

فرقہ وارانہ تشدد اور داعش کے جہادی گروپ کی زیادتیوں کے نتیجے میں خون ریزی بڑھی۔

سال نو کے خطاب میں، عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے سنہ 2014 کو عراقیوں کے لیے ایک ’مشکل ترین اور اذیت ناک سال‘ قرار دیا، چونکہ داعش نے حملوں میں تیزی پیدا کی۔ اس گروپ کو عراق کے پانچ صوبوں کے ایک بڑے علاقے پر تسلط حاصل ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی کارروائی میں داعش کے 29 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 12 عراق میں اور 17 شام میں تھے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اِن فضائی حملوں میں دولت اسلامیہ کی عمارات، ٹھکانے، چوکیاں، حربی دستے اور بھاری دہانے کی گولہ باری کا نظام شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG